ڈنمارک میں الیکشن

اٹھارہ جون دوہزار پندرہ ڈنمارک میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔۔۔۔ڈنمارک کی سیاست اور پارٹیوں کے متعلق آپ اس ویکپیڈیا کے لنک میں پڑھ سکتے ہیں۔۔۔ڈنمارک کی سیاست اور پارٹیاں


گذشتہ پانچ سال جن میں ، میں ڈنمارک میں رہا ہوں یہ اس کا اس طرز کا تیسرا ایونٹ ہو گا، پچھلا الیکش دوہزار گیارہ میں ہوا، گذشتہ سال مقامی الیکشن ہوئے اور اب پھر سے پارلیمنٹ کے لئے انتخاب ہونے جا رہے ہیں، ہر دفعہ کی طرح لوگوں نے اپنے مخصوص قسم کے انتخابی اشتہارات لگا رکھے ہیں۔ امیدوار نے اپنی پارٹی کے لوگو کے ساتھ اپنی تصویر اور کوئی ایک آدھ ٹیگ لائن دے رکھی ہے۔ یہ اشتہار ایک گتے پر چسپاں کرکے پلاسٹک کی بینڈ کی مدد سے بجلی کے کھمبوں ، درختوں، سڑک پر موجود جنگلوں پر لگائے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ سارے اشتہار پارٹی کے لوگ لگاتے ہیں اور الیکش کے بعد اس پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اشتہارات اتار کر لے جائے۔ یعنی الیکشن گذرنے کے بعد چند دن میں الیکشن کے اثرات درودیوار پر نظر نہیں آتے۔۔۔۔۔۔


 دوسری خوبصورت بات الیکشن کمپین کا طریقہ کار ہے، پارٹیز کے سربراہ، الیکشن میں حصہ لینے والے چھوٹے فلائیر سائز کے اشتہارات خود بانٹتے نظر آتے ہیں، وہ کسی مصروف چوک ، چوراہے پر کھڑے ہو کر لوگوں سے علیک سلیک کرتے ہیں اور اپنا اشتہار اس کو تھما دیتے ہیں۔۔۔۔ایسے میں ہی چند روز پہلے ڈینش میڈیا پر ایک ویڈیو نے کافی دھوم مچائی جس میں وزیراعظم کے امیدوار اور سابقہ وزیراعظم لارس لوکے راسموسن نے جب ایک جوڑے کو اپنا انتخابی اشتہار دیا تو اس نے یہ اشتہار اس کے سامنے ہی ایک ڈسٹ بن میں ڈال دیا۔۔۔۔جس میڈیا کے ایک نمائیندے نے اس جوڑے سے اشتہار پھاڑنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کو ووٹ نہیں دے گے، کیونکہ ہمارے خیالات سے مطابقت نہیں ہے۔ 
پھر چند روز پہلے اسی پارٹی کے امیدوار نے سائیکل پر اپنے حلقہ انتخاب کا چکر لگایا۔۔۔ویسے سائیکل چلانا یہ بہت معمول کی بات ہے۔ 
ہمارے دوست شاہد صاحب ایک دن سینٹرل سٹیشن کے باتھ روم سے نکلے تو واش بیسن پر ایک منسٹر صاحب کو ہاتھ دھوتے دیکھا تو کہنے لگے آپ وہی ہیں نا، جن کے آجکل اشتہارات لگے ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا جی جی میں وہی ہوں۔۔۔۔ڈنمارک کے الیکشن میں حصہ لینے والے عام آدمیوں کی طرح عام مقامات پر بنا سیکورٹی نظر آتے رہتے ہیں۔۔یہ انہی عام سورایوں پر سفر کرتے ہیں جن پر عوام سفر کرتی ہے، الیکشن کے اشتہارات نہ صرف  خود بانٹتے ہیں، بلکہ کبھی کبھی تو کھمبوں پر چڑھ کر خود ہی لگاتے بھی ہیں۔۔۔۔

اس میں شک نہیں کہ ڈنمارک کے مسائل ہم جیسے نہیں، یہاں کسی دفتر میں آپ کو کسی مقامی نمائیندے کی سفارش کی ضرورت نہیں پڑتی، اس لئے آپ کو اس کے آگے پیچھے پھرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔لیکن پھر بھی جن ملکوں نے جمہوریت اپنائی ہے ان ملکوں سے اچھے کام نقل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔وہ لوگ جو عوامی نمائندہ ہونے کا دعوی رکھتے ہوں لیکن اسی عوام سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہ کرتے ہوں، ان کی گاڑی اور گھر کے باہر پہرے داروں کی لمبی لائن ہو ۔۔۔ان لوگوں کے انتخاب سے پہلے ایک آدھ دفعہ سوچ لینے میں کیا حرج ہے؟؟؟؟

یہ ایسے ہی ملک کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ ابھی چند روز پہلے پاکستان میں ڈنمارک کے سفیرمحترم نے اسلام آباد میں ایک عام آدمی جیسا دن گذاراہ۔۔۔میٹرو میں سفر کیا، خود ٹکٹ خریدا، اپنی تلاشی دی۔۔۔۔۔۔اور آپ نے چند روز پہلے کا ایک واقعہ تو سنا ہو گا جس میں ایک جج صاحب کی گاڑی کو کسی نے روکا تو انہوں نے گارڈ کوخوب صلواتیں سنائی تھیں۔۔۔۔۔
عالی جاہ 
سیکھنے کا عمل کبھی رکتا نہیں، پاکستان نے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، ضروری نہیں کہ ہم اپنے نئے طریقے دریافت کرکے آگے بڑھنے کی جستجو کریں، بلکہ کسی ترقی یافتہ قوم کو دیکھ کر بھی اپنی کچھ معاملات سیدھے کئے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔