جہاں سپیڈ لمٹ ختم ہو جاتی ہے۔ جرمن آٹوبان

آپ ایک سو پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کم رفتار گاڑیوں والی لین میں گاڑی چلا رہے ہوں اور ایک گاڑی چھوں کرتی ہوئی آپ کے پاس سے گذر جائے، ہو سکتا ہے اس کی سپیڈ اڑھائی ، تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہو، ایسا قانونی طور پر جرمن آٹوبان پر پر ہی ہوسکتا ہے۔ پچھلے سال جب میری پرانی سوزوکی لیانا 1600 سی سی کچھ نئی تھی تو ایک سو ساٹھ سے کچھ اوپر آرام سے چل جاتی تھی، لیکن اس کی بار میں نے ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ سے اوپر چلانا مناسب بھی نہیں جانا۔۔۔اور آہستہ آہستہ اپنی لین میں چلتا رہا اور بی ایم ڈبلیو، آڈی ، مرسڈیز قبیل کی دوسری گاڑیوں کو پاس سے فراٹے بھرتے گذرتے ہوئے دیکھتا رہا۔
تیز رفتار ڈرائیور دنیا میں ہر جگہ ہی پائے جاتے ہیں، مگر قانون ہمیشہ سے ان کے راستے کی رکاوٹ رہا ہے۔ ڈنمارک میں دس گنا سپیڈ زیادہ ہونے پر کم از کم جرمانہ پاکستانی روپوں میں پنددہ ہزار کے لگ بھگ ہوگا، جوں جوں سپیڈ بڑھتی جاتی ہے توں توں جرمانہ بڑھتا جاتا ہے، حتی کہ آپ کا ڈرائیونگ لائسنس ضبط کر لیا جاتا ہے۔ ایسی سختیاں جرمنی میں بھی موجود ہے۔ مگر جرمن موٹر وے کا کچھ حصہ جہاں سپیڈ کی حد ہٹا لی جاتی ہے، دنیا کے تیز رفتار ڈرائیورز کے لئے ہمیشہ سے باعث کشش رہا ہے۔ لوگ ان حصوں پر آکر تیز ترین ڈرائیونگ کے شوق پورے کرتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کیونکہ دنیا کی بہت سے اچھی گاڑیاں جرمنی میں بنتی ہیں اور ان گاڑیوں کی رفتار پکڑنے کی صلاحیت بہت ہی اچھی ہوتی ہے جو چند سیکنڈز میں سو کلومیٹر بھی گھنٹہ پر پہنچ جاتی ہیں، ایسی گاڑیوں کے چلانے کو کچھ جگہ تو ہو اس لئے جرمن موٹر وے ایسی گاڑیوں اور ڈرائیورز کے لئے ایک ایسی جگہ کا کام دیتے ہیں جہاں وہ عملی طور پر اپنے اعصاب اور گاڑی کی قابلیت کا امتحان لیں سکیں۔







یوں تو جرمنی کی آٹوبان بارہ ہزار کلومیٹر سے زیادہ لمبی ہے مگر اس ساری موٹر وے پر سپیڈ لمٹ کی آزادی نہیں۔، اکثر جگہوں پر ایک سو بیس اور تیس کی سپیڈ لمٹ ہے۔ مگر جہاں یہ حد ختم ہوتی ہے، خصوصا آبادی والے علاقوں سے دور تو مجھ ایسے ڈرائیورز کے لئے احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ ٹرکوں والی لین کے قریب ہو جائیں اور بنا اشد ضرورت کے اوورٹیک کی کوشش نہ کریں۔