فن ادائیگی بحوالہ تقریر و مباحثہ

جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی۔۔۔۔۔۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ’’ادا‘‘ کی لفظی خوبصورتی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے۔ جس کو ادا کرنے اور ہونے کی ادا آتی ہے۔

اس کے ہونٹوں سے ادا انے لگا ہوں اب میں
ٹھہراے زیست بپا ہونے لگا ہوں اب میں
خود سے لپٹا لے مجھے ، چوم لے ماتھا میرا
زندگی تجھ سے جدا ہونے لگا ہوں اب میں

یہاں چہروں پہ نشاں تک نہیں کانوں کے ظہیر
اور یہاں نغمہ سرا ہونے لگا ہوں اب میں

سو جان لیجئے گفتگو کی ساری دلکشی ادائیگی میں پنہاں ہے۔ جس کو ادائیگی کی ادا آجائے پھر وہ ’’بپا‘‘ ہو کر رہتا ہے۔ پھر ’’مستند ہے میرا فر مایا ہوا‘‘ کے افکار جنم لیتے ہیں۔ یہی وہ احساس ہے جو بزبانِ غالب یوں ادا ہوتا ہے۔
رکھ کے تیشہ میرے سنگ مزار پہ فرہاد
کہے ہے یا استاد ! یا استاد!
قلو پطرہ کو ادا ہو نا آیا تھاتو جولیس سیزر کی شمشیرلرزی تھی۔ مو نا لیزا کی مسکراہٹ
لیونا رڈو کے قلم سے ’’ادا‘‘ ہوئی تھی۔ عبد الرحمٰن بخنوری غالب کے ادا کر نے کو ہی ہند وستان
کا الہامی کلام مانتا ہے۔ غرضیکہ جس کو ادائیگی کی ادا نصیب ہو جائے تو لوگ اس کے مزار پر اگنے والے املی کے پیڑ کے پتے بھی اسلئے چباتے جاتے ہیں کہ شاید انہیں بھی ادائیگی نصیب ہو جائے!
مگر یہاں بھی ’’عطا‘‘ ادا سے پہلے ہے! ادائیگی کو اگر میں لفظوں کا ہار پہناؤں تو مجھے ایک حوالہ ساتھ لیکر چلنا ہو گا! کہتے ہیں نذر محمد راشد کی نظم حسن کو زہ گر کسی صاحب ادا و عطا نے پڑھی اور اس کا یہ مصرعہ
جہاں زاد!
نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا
کہ جیسے!
شہر مدفون پر ’’وقت‘‘ گزرتا ہے
جب یہاں کہنے والا کہتا ہے ’’وقت‘‘ گزرتا ہے جو یوں لگتا ہے جیسے وقت گزرا ہے۔ شہر مدفون کی تاریکی پہ گزرا ہوا وقت ’’ادا‘‘ تبھی ہو گا جب سامع کو محسوس ہو گا یہ وقت اس پر بھی گزرا ہے!
ادائیگی سے پہلے یہ بات سمجھ لینا اشد ضروری ہے کہ کچھ باتیں پڑھنے اور بولنے کیلئے نہیں ادا کر نے کیلئے ہوتی ہیں۔ ان کیلئے زبان سے زیادہ دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی بناوٹ اس رابطے کی محتاج ہوتی ہے جو آپ کے دل اور زبان میں ہے اگر آپ کے پاس یہ جوڑ یہ رابطہ ہی ٹوٹا ہوا ہے تو ادائیگی نہیں ہو پائے گی
جغرافیائی سرحدیں تاریخی سرحدوں سے زیادہ اہم ہیں کے موضوع پر لکھتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرا قائد ’’محمد علی‘‘ کا نام اوڑھے پاک لوگوں کے رہنے کو ایک گھر تشکیل دینا چاہتا ہے اور جب علیؓ کے گھرانے کی شجاعت لئے ’’فاطمہ ‘‘ خیبر سے راس کماری تک گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتی ہے! کہ بہنو! اٹھو یہ آگ بھائیوں کے خون سے نہیں بجھے گی!
تو یہ الفاظ ادا اسی وقت ہوں گے جب آپ کو محمد علی اور فاطمہ کی سمجھ ہوگی۔ آپ ان کو سمجھے بغیر پڑھ تو سکتے ہیں ادا نہیں کر سکتے اور پھر جب فاطمہ بہنوں کو پکارتی ہے تو بہنو
اٹھو! کے الفاظ وہ للکار ہے جو تبھی ادا ہوں گے جب اس عظیم مقصد کی سمجھ ہوگی جس مقصد کی خاطر ’’فاطمائیں ‘‘ سیکر ٹریٹ کی عمارت پر چڑ ھ دوڑ یں تھیں۔
ادھر ہر ماں نے اپنا بیٹا ہتھیلی پر رکھ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر بہن نے اپنا بھائی پیش کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر سہاگن اپنے سہاگ کو تھالی میں سجا لائی ’’محمد علی‘‘ آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیں
بس اب کہنا یہی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادائیگی فقروں کو پڑھ دینے کا نام نہیں۔ ان کو سمجھ کے ساتھ ادا کر دینے کا نام ہے۔
جس دن آپ کو فقروں میں کھانے پینے جیسی لذت ملنے لگے۔ آپ لفظ ادا کریں اور آپ کو لگے ! کہ مزا آگیا بس اس دن ادائیگی شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس لفظوں سے آشنائی کی ضرورت ہے محبت کیلئے محبت ، خلوص کیلئے خلوص عاجزی کیلئے عاجزی ، غصے کیلئے
غصہ، للکار کیلئے للکار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دفعہ الفاظ کو سمجھ لیجئے! کہ وہ کس واسطے لکھے گئے ہیں۔ ان کا مفہوم عبارت کے مطابق کیا بنتا ہے۔ ایک لفظ اپنے اندر کونسا جہاں رکھتا ہے!
جب آپ شعور کی یہ منزل طے کر لیں گے تو ادائیگی آسان ہو جائے گی! رب الشرح لی کی دعا میں اس عطا کے حصول کیلئے دعا کرتے رہیے! ادائیگی آجائے گی