برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

اقبال نے کہا تھا کہ 
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے 
ہے جرم ضیعفی کی سزا مرگ مفاجات
بس ایسے ہی دنیا اب مسلمانوں کے درپے ہے، جو کچھ طاقتور ہیں ان کو طاقتوروں نے اپنے ساتھ ملا رکھا ہے یا وہ خود ہی طاقتور کا دست وبازو بنے ہوئے ہیں۔ اور جنہوں نے کسی طاقت ور کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی ان کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے عرب میں بہار کے نام پر خون کی ہولی کھیلی گئی ، لاکھوں لوگ اندھی گولیوں کا نشانہ بنے، مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا خون بہا۔۔۔اور اگر آج کی دنیا میں مسلمانوں کا مقام دیکھنا ہو تو جو دنیا کہہ رہی ہے اگر سن لیا جائے تو کان بہرے ہو جائیں۔۔۔
ابھی کچھ ایک آدھ دن پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے مسلمانوں کو خطرناک جانور قرار دیا، پیرس کے واقعات کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ایک نئی تیزی ملی، گو کہ دنیا بھر سے پرامن مسلمانوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ، اور پرتشدد لوگوں کو مسلمانوں کا نمائیندہ ماننے سے انکار کیا، لوگوں نے سوشل میڈیا پر ایک تحریک بھی چلائی کہ کوئی دہشت گرد ان کا نمائندہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ 
مگر کیا کجیئے کہ کمزور پر غصہ کم ہونے کا نام ہی  نہیں لیتا، پیرس واقعات کے بعد پیرس میں ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچایا گیا، اور ایک مسلمان کی دکان پر بھی آگ لگائی گئی، ، نیویارک کے ایک مسلمان ٹیکسی ڈرائیور نے گلہ کیا کے پچھلے کئی گھنٹوں سے اس کے پاس کوئی سواری نہیں آئی کیونکہ وہ مسلمان ہے۔ ابھی ایک ویڈیو نظر سے گذری ہے جس میں امریکہ کے کسی شہر میں مسجد بنانے کی قرداد پر بات کرتے ہوئے ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ میں یہ ہونے نہ دوں گا کیونکہ ہر مسلمان دہشت گرد ہے۔ 
https://www.facebook.com/KarimFanPage/videos/10153144771636135/

ہماری سوچیں ہماری زبان تک محدود ہیں اور بین الاقوامی میڈیا میں ہماری شنوائی تک نہیں ہوتی، وہاں امریکی، یورپی، اسرائیلی اور غیر مسلم موقف کی پذیرائی ہوتی ہے، اور سچ پوچھیے تو ہماری آواز تو خوف کے مارے نکلتی ہی نہیں، نجانے کون کس وقت دہشت گرد کا لیبل لگا کر دھر لیا جائے، کچھ عرصہ پہلے جب انگلینڈ میں ورزش کرتے ہوئے چند پاکستانی طالب علموں کی تصاویر اتار لی گئی اور بعد میں ان پر شک کیا گیا کہ وہ جہاد کی تربیت میں مصروف تھے، ان معصوم طالب علموں کا مستقبل تباہ ہوا اور حکومت پاکستان نے بھی ان کی کچھ اشک شوئی نہ کی تھی، ایسے حالات میں غیر ملک میں بسنے والے مسلمان مزید دیوار کے ساتھ لگتے جا رہے ہیں۔ اور ابھی آج ہی بات ہے کہ ناروے میں ایک شخص کو روک پوچھا گیا کہ کیا تم مسلمان ہو اور جب اس نے کہا جی تو اس کو چاقو گھونپ دیا گیا۔ 
ایسے حالات میں اگر سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی جائے تو یوں لگتا ہے کہ یہ بھی مسلمان مخالفت میں خوب سرگرم ہے۔ ایس ای او کا کوئی ماہر ہی بتا سکتا ہے کہ آپ کی سرچ میں کوئی چیز سب سے اوپر کیونکر آ سکتی ہے۔ اس کی میری نظر میں چند وجوہات ہیں جیسے کسی چیز کا وائرل ہو جانا، باربار سرچ کیا جانا، آپ کی انٹرسٹ کے مطابق ہونا اور یا پھر اوپٹمائز ہونا ہو سکتا ہے۔ لیجئے میرے ٹیوٹر اکاونٹ پر لفظ اسلام کو ہیشٹیگ کے ساتھ سرچ میں لکھنے سے جو کی ورڈ سب سے اوپر آتے ہیں وہ ملاحظہ ہوں۔ 


لفظ آئی لیکر ایم لکھنے تک ائی اس ائی ایس، اور اسلام دی پرابلم کا ہیش ٹیگ سب میں نظر آیا، اس کی وجہ یہ ہے لوگ سب سے زیادہ اسلام دی پرابلم کا ہیش ٹیگ استعال کرتے ہیں، یا یہ لوگ اس کو بہت زیادہ سرچ کرتے ہیں یا اس اوپٹمائز ہی ایسے کیا گیا ہے کہ آپ اسلام لکھیں تو ساتھ میں دی پرابلم لکھا خود بخود آ جائے۔ 

فلسطین کے مسلمانوں پر ہونے والی ویڈیوز سے میڈیا بھرا پڑا ہے، سچ پوچھئے تو اب ہمت ہی نہیں ہوتی کہ ان کو دیکھا جائے۔۔۔جو حالت اب عالم اسلام کی ہے سچ پوچھئے تو دل خون کے آنسو روتا ہے مگر پھر بھی مجھے دور کہیں یہ خوش گمانی نظر آتی ہے کہ اسلام پھر سے ابھرنے کو ہے۔۔۔کیونکہ 
اسلام کی فطرت میں قدرت نے یہ لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دو گے۔
بس ایسی تسلیوں سے دل سنبھالتا ہوں، اور کڑھتا ہوں کہ کاش ہمارے مسلمان واعتصمو بحبل اللہ کی رسی کو تھام لیں، آپس کی نفرتوں کو کم کرلیں، اور سب سے بڑھ کر جس مذہب کے ماننے والے ہیں اس کی مان بھی لیں۔ سلامتی اور امن کے مفہوم کو سمجھتے ہوئے آپس میں مساوات اور بھائی چارے کا معاشرہ قائم کرلیں۔۔۔۔کاش ایسا ہو سکے۔۔۔۔۔

یہ بلاگ نیونیٹ ورک پر چھپ چکا ہے 
http://urdu.neonetwork.pk/?p=18127



واقعات کے حوالہ جات ۔ 



http://makegoodnews.net/frenchtragedy/

http://english.pnn.ps/2015/11/19/netanyahu-muslims-are-dangerous-animals/

http://www.nrk.no/ostlandssendingen/spurte-om-han-var-muslim-for-han-stakk-med-kniv-1.12664508