کوپن ہیگن میں موسم کی پہلی برف باری اورسرد زادے

کوپن ہیگن  (رمضان رفیق سے
عثمان فضل فیس بک 

عدیل آسی فیس بک 
آج شام 4 بجے سے مسلسل کوپن ہیگن میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے، تاحد نگاہ زمین پر سفیدی ہی سفیدی ہے اور آسمان سے روئی کے گالوں کی طرح برف آہستہ آہستہ اترتی چلی آ رہی ہے۔ کچھ من چلے باہر لان میں جہاں آج دوپہر تک ہری بھری گھاس تھی وہاں سنو مین بنانے میں مشغول ہیں. کاروں ، سائیکلوں، درختوں غرضیکہ ان روئی کے گالوں کو جو جگہ بھی پسند آئی وہیں قبضہ جمائے جا رہے ہیں، موسم کی پہلی برف باری میں گاڑی چلانے والوں کو بھی بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ لوگوں کو برف پر گاڑی چلانے کی عادت نہیں ہوتی۔ لیکن ایک لمبے عرصے کے بعد جب دھرتی کا رنگ روپ بدل جاتا ہے تو ابتدائی طور پر بھلا بھلا ہی دکھائی دیتا ہے۔


 اور آج کوپن ہیگن کے دوستوں نے اپنے فیس بک کی دیواروں کو اپنی برف باری میں تصاویر کے ساتھ بھر رکھا ہے اور میں اپنی کھڑکی سے باہر گرتی برف کو دیکھ دیکھ کر رانا سعید دوشی کی نظم برف زادے یاد کر رہا ہوں۔۔۔اور سوچ رہا ہوں کہ جب سے بالوں میں برف اتری ہے میرا لہجہ ٹھٹھر گیا ہے۔






میں غالبا دوسری میں تھا جب
جب یہ سرد زادے یہ برف موسم مجھے
مجھے ڈرانے گلی میں آتے
تو میں نہ ڈرتا
میں ننگے پاؤں بنا سویٹر
نکل کے اپنے لحاف سے جب گلی میں جاتا
تو وہ بھاگ جاتے
گلی کی نکڑسے تھوڑا آگے
جلاہوں کے چوک تک تو
میں ان کا پیچھا کرتا
کہ گلیوں میں میرا دبدبہ تھا
میں سرد راتوں میں دندناتا
میں اپنے گھر میں تو شیر تھا ہی
مگر مکتب میں بھی میرا رویہ جدا تھا
میری نصابی کتاب میں جو گلیشیر تھے
میں انکو "گل شیر" پڑھ رہا تھا
عجیب گرمی تھی میرے اندر
مگر اچانک یہ کیا ہوا ہے
کہ سردزادوں نے میرے گھر پربھی
اپنا قبضہ جما لیا ہے
خنک رُتیں اب
میرے لحافوں میں سو رہی ہیں
کوئی بھی گوشہ
کوئی کونہ نہیں بچا ہے
کہ جس میں بھی دبک کے بیٹھوں
میری سماعت میری بصارت تو خیر گروی پڑی ہوئی تھی
یہ جب سے بالوں میں برف اُتری ہے
میرا لہجہ ٹھٹھر گیا ہے

یہ بلاگ نیو نیٹ ورک پر بھی چھپ چکا ہے ۔http://urdu.neonetwork.pk/?p=18091