تصدیق پر تصدیق اور پھر بھی جعلسازی

دوہزار چھ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چھوتھے مقامی پی ایچ ڈی وظائف کے لئے میں نے کوالیفائی کیا اور ارداہ کیا ہے کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انوائرنمنٹ سائیسنز میں پی ایچ ڈی کر لی جائے، کسی دوست کے توسط ایک سپروائزر سے بھی بات کر لی انہوں بھی اپنی سرپرستی میں لینے کا عندیہ دے دیا ، ایک پروجیکٹ کے بارے میں سوچ بھی لیا گیا، داخلے کے کاغذات جمع کروا دئے گئے، ابتدائی انٹرویو کے لئے بھی بلایا گیا ، جہاں میں گیا بھی ۔۔۔اس کے بعد میرے ایڈمشن پر ایک اعتراض لگا دیا گیا کہ میری ڈگری ایم فل کے برابر بھی ہے کہ نہیں؟ اپنی ڈگری ایم فل کے برابر ہونے کا ایک سرٹیفکیٹ جو کہ ہماری یونیورسٹی جامعہ زرعیہ فیصل آباد عطا کرتی تھی پہلے ہی لگا چکا تھا ، اس لئے مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایسا اعتراض کیونکر لگا دیا گیا؟ پی ایچ ڈی کمیٹی کے سربراہ کسی شعبہ کے انچارج تھے ان سے ملا اپنی ڈگری کی برابری کو ثابت کرنے والا سرٹیفکیٹ پیش کیا جس پر جامعہ زرعیہ فیصل آباد کی طرف سے تصدیق اور حوالہ جات موجود تھے مگر انہوں نے اس سند کو ماننے سے انکار کر دیا، انہوں نے فرمایا کہ میں ایچ ای سی ایک پرسنل سرٹیفکیٹ بنوا کر لاوں جو میرے نام سے جاری ہو گا کہ فلاں ابن فلاں کی ڈگری ایم فل کے برابر ہے۔ میں نے ان کو بتانے کی کوشش کی کہ میرے پاس موجود سرٹیفکیٹ پر واضح لکھا ہوا تو پھر اس کی ضرورت کیوں ہے؟ انہوں نے بڑی بدتمیزی سے میرے نقطہ اعتراض کو رد کیا اور ان کا حکم من و عن بجا لانے کا کہا۔ ان دنوں والد صاحب کچھ علیل تھے اسلام آباد جا نہ سکتا تھا، ایک دوست کے ذمہ لگایا جنہوں نے حامی بھر لی اور میں مطمئن بھی ہوگیا، دوست نے لارا لگائے رکھا اسی دورانیہ میں والد صاحب انتقال کر گئے اور میں اس وقت کو کھو بیٹھا  جو متعلقہ ڈاکومنٹ جمع کروانے کے لئے دیا گیا تھا اور میرا پی ایچ ڈی کا داخلہ اس ڈاکومنٹ کے نہ جمع کروانے کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔  ایک قومی یونیورسٹی کا دوسری قومی یونیو رسٹی کی ڈگری بارے ایسا سوال چہ معنی؟ اگر وہ ڈاکومنٹ اگر اتنا ہی اہم ہے تو جامعات اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں اتنا بھی رابطہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں کہ فلاں یونیورسٹی کی اٹھارہ سالہ تعلیم کو ایم فل کے برابر مانا جائے یا نہیں، اور ایک پہلے سے موجود سرکاری ڈاکومنٹ کے ہوتے ہوئے دوسرے ڈاکومنٹ کی ضرورت کیونکر ہے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
اس سے ملتا جلتا واقعہ کچھ دو سال پرانا ہے جب ایک پردیسی دوست کے والد کو روپے بھجوانے لاہور میں ایک مشہور پاکستانی بنک کی برانچ میں گیا، میرے پاس دوست کے والد صاحب کا بنک اکاونٹ تھا اوربس یہ پتہ تھا کہ میاں چنوں میں رہتے ہیں۔ لائن میں لگنے کے بعد جب میری باری آئی تو انہوں نے کہا کہ برانچ کوڈ لیکر آوں، میں نے ان سے درخواست کی کہ میرے پاس ان کا رابطہ نہیں، آپ براہ کرم مدد کر دیں اور ویسے بھی میاں چنوں میں آپ کی زیادہ برانچز بھی نہیں ہیں اس لئے آپ کچھ مہربانی کردیں، انہوں نے سختی سے کہا کہ برانچ کوڈ لیکر ہی آوں، خیر دوست کو بیرون ملک فون کیا، ان کے والد کا نمبر لیا، ان سے برانچ کوڈ لیکر واپس لائن میں لگ کر کھڑکی تک پہنچا، انہوں نے پیسے گنے جو ساٹھ ہزار سے کچھ زیادہ تھے انہوں نے فرمایا شناختی کارڈ کی کاپی دیں، میں نے کہا میرے پاس شناختی کارڈ تو ہے مگر کاپی نہیں ، انہوں نے کہا کاپی کروا کے لاوں، خیر بنک سے نکلا کاپی مشین ڈھونڈی ، واپس آیا تو وہ صاحب کھانا کھانے نکل گئے، ان کا انتظار کیا پیسے جمع کروائے اور اس قسم کے بے ضرر کام میں تین گھنٹے نکل گئے۔
اور آجکل بھی ایسے ہی ایک کام میں پھنسا ہوا ہوں، پاکستان میں نئی کمپنیاں رجسٹر کرنے والے ادارے سے کمپنی کا نام بک کروانا درپیش ہے۔ سنا تھا کہ بڑا ہی فعال ادارہ ہے اور کافی کام آن لائن ہی ہو جاتا ہے۔ آن لائن ان کا اکاونٹ بنایا گیا ، تو ویب سائٹ پر داخلے یعنی لاگ ان کرنے کی کوشش کی تو لاگ ان کرنے والا بٹن ہی کام نہیں کر رہا تھا، تھوڑی کوشش سے سمجھ آئی کہ اس ویب پر لاگ ان کرنے کے لئے ایک خاص طریقہ کار ہے، آپ صرف انٹرنیٹ ایکسپلور سے ہی داخل ہو سکتے ہیں اور وہ بھی اس صورت میں جب آپ کمپیٹیبلٹی ویر کھولیں گے، گو کہ میرا انٹرنیٹ کا استعمال عام لوگوں سے کافی زیادہ ہے مگر پھر بھی مجھے اس کمپیٹی بلٹی ویو کے چکر کی سمجھ نہیں آئی، کسی دوست سے پوچھا انہوں نے سمجھایا ویسے تو ویب سائٹ والوں نے ویب سائٹ پر لاگ ان کرنے کا طریقہ تفصیل سے لکھ رکھا ہے۔ مگر اتنی لمبی تفصیلات اور وہ بھی ویب میں داخلے کے لئے کون کرے۔ خیر آن لائن فارم بھرا گیا اور طے کیا کہ آن لائن فیس بھی جمع کروادی جائے جو کہ مبلغ دو سو آٹھ روپے تھی۔ فیس جمع کروانے کی باری آئی تو میرے کریڈٹ کارڈ پر کچھ ویری فکیشن کے مسائل ہو رہے تھے اس لئے سوچا کیوں نہ آف لائن فیس جمع کروادوں، اگلے دن پرنٹ لینے کے لئے ایک کمپیوٹر کی دکان پر گیا انہوں نے کہا آج جمعہ ہے اور انٹرنیٹ والا لڑکا چلا گیا کل تشریف لائیے گا، اگلے روز وہاں گیا اور پرنٹ لیا، بنک میں پیسے جمع کروانے کا ارادہ کر رہا تھا کہ پتہ چلا کہ یہ فارم کسی خاص بنک میں ہی جمع ہو سکتا ہے، اور اس خاص بنک کا پتہ بھی ویب سائٹ سے ہی ملے گا، اس لئے اس ادارے کو فون کیا گیا انہوں نے فرمایا کیونکہ اب آپ سے غلطی سرزد ہو چکی ہے آپ کو آف لائن پیسے جمع کروانے کے لئے پرانے پراسس کو ویب سے ختم کرنا پڑے گا جس کے لئے آپ ای میل کریں جس کا جواب آنے میں ایک دن لگے گا۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایک سادہ سا پراسس کہ آن لائن سسٹم میں ایک ستعمال کنندہ اتنی سی تبدیلی بھی خود نہ کر سکے کہ وہ فیس خود جمع کروائے یا آن لائن؟ اس پراسس کو نئے سرے سے شروع کرنے کے خوف سے ایک دوست کو تکلیف دی کہ اپنا کریڈٹ کارڈ ادھار دے، انکے کارڈ کو سسٹم نے قبول نہ کیا، بڑے بھائی کو فون کیا، ان کے کارڈ کو سسٹم نے قبول کر لیا اور ویب پر آنے لگا کہ آپ کی ٹرانزکشن پر عمل ہو رہا ہے اور ایک گھنٹہ دس منٹ وہی سائن نظر آتا رہا ۔۔۔مجبورا ادارے کو ای میل لکھ ڈالی کہ مجھے کوئی پیغام نہیں آیا کہ پراسس مکمل ہوا کہ نہیں اگر پراسس مکمل نہیں ہوا تو میرے پرانے پراسس کو ختم کر دیں۔ آج صبح ان کی ای میل آئی کہ بتائیں پراسس ختم کر دیں یا آپ کے آن لائن پیسے جمع ہو گئے ہیں؟ میں نے یہی سوال واپس کیا کہ کیا آپ کے سسٹم نہیں آ رہا کہ میرے پیسے جمع ہو گئے یا نہیں؟ جواب میں انہوں نے کہا ادارے کے نمبر پر فون کروں، فون کرنے پر انہوں نے کہا کہ میں اپنے بنک سے پوچھوں کہ پیسے چلے گئے یا نہیں، جس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا، دوبارہ پھر بڑے بھائی سے درخواست کی وہ کوشش کریں۔ اور جب انہوں نے کوشش کی تو ویب پر سائن ان کرنے کا مسئلہ پھر سے پیدا ہوا، خیر انہوں نے آئی ٹی کے کسی دوست کی مدد سے ویب پر لاگ ان کیا اورتازہ ترین اطلاع کے مطابق اب پیسے جمع ہو چکے ہیں۔
لوگ جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ باہر ڈنمارک اور پاکستان میں کیا فرق ہے تو ان واقعات کے حوالے سے میں ڈینش سسٹم کی مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
ڈنمارک میں کمپنی رجسٹر کرنے کے لئے آپ کو ایک سنٹرل سسٹم کے ذریعے لاگ ان کر کے ٹیکس کی ویب سائٹ پر جانا ہوتا ہے، وہاں آپ متعلقہ نام ، کمپنی کا دائرہ کار بتا کر کمپنی رجسٹریشن کے لئے ڈال دیتے ہیں، ایک سنٹرل سسٹم کے ذریعے آپ کی معلومات سبھی متعلقہ اداروں تک پہنچ جاتی ہیں، اور کچھ بیس پچیس منٹ میں آپ کی ٹیکس کے ادارے سے منظور شدہ کمپنی کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے۔اگر کچھ دیگر معلومات درکار ہوں تو متعلقہ ادارے آپ سے خود رابطہ کرتے رہتے ہیں ناکہ آپ اپنے کاغذات اٹھائے اداروں اور نک چڑھے افسران کے نخرے اٹھاتے رہیں۔ بالکل اسی طرح آنے سے پہلے میں نے سوچا کہ انٹرنیشنل لائسنس بنواتا جاوں، میری فلائٹ بھی اسی دن تھی ائیر پورٹ پہنچنے سے پہلے کے وقت میں کچھ آدھ گھنٹہ ہی اضافی تھا۔ میں بلدیہ کے دفتر گیا، لائن میں لگنے کا ٹوکن لیا، میری باری آنے میں دس منٹ لگ گئے، میں ایک کاونٹر پر گیا اور مدعا بیان کیا، انہوں نے میرا ڈینش ڈرائیونگ لائسنس طلب کیا اور ایک عدد تازہ تصویر، میں نے دونوں چیزیں دیں ، کاونٹر پر موجود خاتون نے کہا کہ آپ کی تصویر معیار کے مطابق نہیں، آپ نئی تصویر لے ائیں یا میں آپ کی تصویر ابھی بنائے لیتی ہوں اور آپ اس کے لئے کچھ روپے اضافی دے دیں ، میں نے کہا جی نالکل، انہوں نے اسی جگہ موجود ایک بکس میں کھڑے کر کے تصویر لے ڈالی اور میرے انٹرنیشنل لائسنس پر لگا کر بلدیہ کی مہر لگا کر اس کو سیل کردیا اور میرے لائسنس کا رجسٹر میں اندراج بھی کر دیا۔ کچھ دس منٹ میں پچیس کرون قریبا چھ سات سو روپے فیس میں میرا انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس میرے ہاتھ میں تھا۔

پاکستانی میں تصدیق کے نظام بچھانے والے ایک کے بعد ایک دائرہ بناتے ہیں، فائلیں ایک میز سے دوسرے میز پر گھومتی رہتی ہیں، اور آپ انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب وہ سعادت سعید آئے گی جب آپ کا کام مکمل ہوگا۔
آن لائن نظام نے دفتری کاموں کو بہت آسان کر دیا ہے، پاکستان میں بے شمار کمپنیاں دفتری معامالات کو کنٹرول کرنے والے نظام بنا کر دنیا میں بیچ رہی ہیں مگر خود پاکستان کے اندر یہ نظام درست طور پر کارگر نہیں۔
خدا جانے وہ وقت کب آئے گا جب چند منٹوں میں ہو جانے والے کام چند منٹوں میں ہو جائیں ورنہ ہمارے موجودہ نظام میں آپ جس بھی محکمے میں کام کے لئے جائیں آپ کا کام طویل سے طویل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
پاکستان میں دستاویزات کی تصدیق کا نظام بہت بوسیدہ ہے، ایک سرٹیفکیٹ تصدیق در تصدیق کے نظام سے گذر کر بھی غلط کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک سٹامپ پیپر لینے کے لئے شناختی کارڈ کی کاپی سے لیکرذات برادری اور حتی کہ فنگر پرنٹس بھی لئے جاتے ہیں مگر پھر جعل سازی ہے کہ رکنے ہی نہیں پاتی؟
اور اگر اتنے مراحل طے ہونے کے بعد ایک ڈاکومنٹ بن جاتا ہے تو اس کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس کے بعد اگر آپ کے پاس اصل ڈکومنٹ ہے تو اس کی نقل کو تصدیق کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟
اور اگر بنک میں فوٹو کاپی دینا لازمی قرار دے دی گئی ہے تو بنک پر لازم کیوں نہیں کہ خود فوٹو کاپی کر لیں، ایک مشین کا احتتام کریں مگر سرکاری و غیر سرکاری ادارے شاید لفظ سروس کے معنی سے آشنا ہی نہیں؟

ہمیں ہمارے دفتری امور کا پھر سے جائزہ لینا ہوگا ، اور نئے زمانے کے مطابق تصدیق کے سسٹم کو ترقی دینا ہوگی، ویب سائٹس کو آسان اور عام فہم کرنا ہو گا، اور سب سے بڑھ کر دستخط در دستخط کے نظام سے جان چھڑانی ہوگی، لوگوں میں ذمہ داریاں تقسیم کرنا ہوگی ، اور ان ذمہ داریوں کے حساب کا رواج ڈالنا ہوگا ۔ آن لائن سسٹم کو حقیقی معنوں میں آن لائن کرنا ہو گا۔
نوٹ۔ یہ بلاگ ڈان اردو میں چھپ چکا ہے، اس کا لنک یہ رہا ۔ تصدیق پر تصدیق اور پھر بھی جعلسازی