بے نام سوچیں- دس سال پرانی تحریر

بے چینی کی کیاریوں میں اگتے ہوئے پھول چنتے چنتے ان خوشبووں کا حساب کرنا چاہتا ہوں جو شاخ گل کے کے کونوں سے پرے تک بھی نہیں جا پاتیں۔ یہ جذبوں کی فصل باربار اگتی رہی اور کٹتی رہی لیکن کتنے اذہان کی کھیتیاں نم اور نمود کے لمس کو ترس گئیں، میں اپنی زندگی کو بے مایہ پاتا ہوں، اپنوں اور بیگانوں کی تسلی کو ایک لفظ بھی نہیں رکھتا، جو جتنا زیادہ قریبی ہے اس کی تپش اتنی ہی زیادہ ہے، شاید کچھ لوگوں کے لئے یہ آگ خوشگوار بھی ہو، مگر الاو کے اندر کیا گذرتی ہے یہ گذارنے والا ہی سمجھتا ہے۔ آنکھیں نیند سے روٹھ چکیں، ذہن سمت سے خالی ہے، خواہشیں بے شمار ہیں، کس کی سنیں اور کس کو راضی کریں، ہر کوئی اپنے مطلب کی دلدل میں دھنسا ہے، ہر کسی کو اپنی ہی خواہش عزیز ہے۔
اس سفرزیست کا حاصل کیا ہو، سیاست کی بساط پر پٹے ہوئے مہروں کے سوا کچھ بھی نہیں، نوکری غلامی بن کر رہ گئی ہے۔ آنے والی زندگی کا ڈراونا سچ آنکھوں کا کانٹا بن کر رہ گیا ہے۔ کیا ہو گا؟ آنے والی صبحوں و شاموں کا رنگ کس کے رنگ سے ملتا ہو گا۔
اپنی زندگی کی کیا صورت ہو گی۔ آج ہمارے لفظوں سے محفلیں سجانے والے کل ہمیں کس نام سے یاد رکھیں گے۔
اپنی زندگی کے مفاہیم کو سمجھتے سمجھتے زندگی کے اندھیروں میں گم ہوتے جا رہے ہیں۔


نوٹ۔
ابھی پرانے کاغذات کے ساتھ ایک کاغذ ملا ہے جس پر یہ سب لکھا ہوا ہے، یہ ڈائری دوہزار چھ اور سات کی ہے۔۔۔۔یعنی ہم دس سال پہلے بھی کنفیوز تھے اور آج بھی ہیں۔۔۔