اپریل فول کے زخم

بات کچھ بیس سال پرانی ہے ، گورنمنٹ کالج ملتان کے ہاسٹل فرید ہال میں رہا کرتے تھے، ہمارے جونئیرز میں سے ایک جونئیر نے دوسرے جونئیر سے کہا تمہاری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ نشتر ہسپتال ملتان میں ہیں، وہ بے چارہ روتا پیٹتا نشتر ہسپتال پہنچا، مختلف وارڈز کے دھکے کھائے ، ایمرجنیسی وارڈ گیا، لیکن کچھ پتہ نہ چلا، موبائل فون اس دور میں ہوا نہ کرتے تھے۔ جس کو ماں کے مرنے کا صدمہ تھا واپس ہاسٹل آیا اور اس نے دوست سے کہا مجھے کچھ پتہ نہیں چلا اور دوست نے آگے سے کہا کہ معذرت میں تو اپریل فول منا رہا تھا۔ وہاں ان جونئیر کی لڑائی ہوگئی، سر پھٹول ہوئی، بڑے بھی لڑائی میں شامل ہو گئے اور یکم اپریل کی اس شام دو گروہ اسلحہ لئے ایک دوسرے کو ڈھونڈھ رہے تھے۔ وہ دن اور آج کا دن کبھی سوچا بھی نہیں کہ کوئی مذاق کرکے کسی پر کچھ وقت ہنسا جائے۔ اور ویسے بھی ہم یورپ کی طرف سے منائے جانے والے ہر دن کے بارے جو عالمی موقف رکھتے ہیں کہ ماں کی خدمت، باپ سے پیار وغیرہ کے لئے سارا سال ہے اس لئے اس ایک دن پر ہی موقوف کیوں، سو ہم سارا سال دوستوں سے مذاق کرتے آتے ہیں تو آج کے دن ہی سپیشپل کیوں،
جیسے رات ایڈیٹر ڈان کا پیغام موصول ہوا کہ آپ کی فی آرٹیکل اعزازیہ کی رقم بڑھا دی گئی ہے تو مجھے لگا کہ وہ مجھے اپریل فول بنا رہے ہیں، میں نے تاریخ چیک کی تو ڈنمارک میں 31 مارچ جبکہ پاکستان میں یکم اپریل ہو چکی تھی ، اس لئے اب تک واضح نہیں کہ کہ میرے ساتھ مذاق کیا گیا ہے یا مبارکباد وصول کر لی جائے۔
ایسے ہی ایک فیس بک کے دوست انہوں نے لکھا کہ انہوں نے اپنی جاب چھوڑ دی ہے اور ایک بڑی فوڈ کمپنی کی فلاں برانچ میں مینجر لگ گئے ہیں، اگر کوئی ان سے دعوت کھانا چاہے تو آج کے آج مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو سکتا ہے، ایسے ہی سوشل میڈیا میں چھوٹی چھوٹی ویڈیوز بناکر شہرت حاصل کرنے والے شام ادریس نے اپنے فیس بک پر لکھا کہ جو لڑکی ان کے ویڈیو کلپس میں اکثر پائی جاتی ہیں، وہ ان کی بیوی ہیں اور ان کے دو بچے ہیں،
ابھی خواجہ سعد رفیق کی کسی اینکر پرسن سے شادی کی خبر بھی اڑائی جا رہی ہے، لیکن جو کمال ہمارے ایک ٹی وی چینل نے کر چھوڑا ہے وہ کافی حد تک تاریخی ہے جس نے بریکنگ نیوز دی کہ پاکستان ٹی ٹونٹی کا فائنل کھیلے گا، ویسٹ انڈیز کی بجائے؟
لیکن اب جبکہ ویسٹ انڈیز جیت کر خوش ہے، اور دوست بھی دوستوں کو بے وقوف بنانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کر رہے ہیں، میں اس سوچ میں ہوں کہ دوستوں سے درخواست کروں کہ خدارا ایسا مذاق نہ کیجئے ، جس سے کسی کو تکلیف پہنچے۔ ایک میڈیا ہاوس کا ایسے کام کی پذیرائی کرنا قابل ستائش ہرگز نہیں کیونکہ لوگوں کو سمت دکھانے والے اس کی حد متعین نہیں کر پاتے، کسی سے کتنا مذاق کرنا ہے اس کی حد ہم ایسے جذباتی معاشرے ناپنا بہت ہی مشکل ہے۔ ہم چاہیں تو پھٹ کھا جائیں تو چاہیں تو کہیں کہ
دوستوں کا پھول بھی پتھر لگا طاہر مجھے
ساری رات احساس کی دیوار سے لپٹتا رہا۔