گھڑی بند پڑی ہے۔۔۔۔۔۔

گھڑی بند پڑی ہے
میرے گھرکی دیوار پر جو سجی ہے
وہ گھڑی کب کی تھمی ہوئی ہے
سوا تین بجے ہیں شاید
ہر رات مجھے لگتا ہے کہ شاید یہ گھڑی اس رات کے سوا تین بجے تھمی ہوگی
جس رات تم نے
رات بھر میرے ساتھ باتیں  کرنے کا وعدہ کیا تھا
اورسوا تین بجے تم سو گئیں تھیں
یا شاید یہ اس دن کے سوا تین ہیں
جس دن تم نے مجھ سے دور چلے جانا تھا
گھڑی پر سوا تین بجے ہیں
اس گھڑی کو چلانے کو تین روپے کا سیل درکار ہے
لیکن اب یہ مجھے ایسے ہی سوا تین پر کھڑی بہت بھاتی ہے
کسی ایسے لمحے کی یاد دلاتی ہے
جب تم کہیں آس پاس تھیں میرے۔۔۔
اور
گھڑی بند پڑی ہے


نوٹ۔ بس لکھنے کی خواہش میں لکھی گئی چند باتیں۔