پی آئی اے پر خوشگوار سفر کرنے کے چند مشورے


ہمارے اکثر دوست شاکی ہیں کہ ہماری قومی ائیر لائن کی سروس عالمی معیار کے مطابق نہیں، لیکن اس کے باوجود وہ کئی وجوہات کی بنا پر پی آئی اے کی پروازوں پر سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جیسے کوپن ہیگن سے ڈائریکٹ لاہور یا لاہور سے ڈائریکٹ اوسلو کے لئے کوئی اور آپشن موجود ہی نہیں۔ پی آئی کے مقابل ترکش ائیر لائن استنبول، قطر ائیر لائن دوحہ اور ایمرات ائیر لائن دوبئی میں پڑاو کرتی ہے جس کی وجہ سے سفر کا دورانیہ دوگنا ہو جاتا ہے اس لئے مسافر سفر کی اذیت کی بجائے پی آئی اے کی تکلیف کو برداشت کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ پی آئی اے ان سب ائیرلائنز سے سستی ائیر لائن ہے، بلکہ میرا مشاہدہ ہے کہ مندرجہ بالا ائیرلائنز کے کرایہ جات کم و بیش برابر اور بعض اوقات پی آئی اے سے سستے ہی ہوتے ہیں۔  پچھلے تین چار سالوں سے اوسط دو دفعہ پاکستان کا سفر کرنے کی بنا پر پی آئی اے پر سفر کرنے والے مجبور مسافروں کے لئے چند سفارشارت مرتب کی گئی ہیں ۔
جب آپ قومی ائرلائن کے مہمان ہوں تو خوشگوار سفر کے لئے مندرجہ ذیل 

اصولوں پر عمل کریں.

ہرگز امید نہ کریں کہ کوئی مسکرا کر آپ کو خوش آمدید کہے گا.
اگر کوئئ مسکرا کر آپ کو آپ کی سیٹ دکھائے تو فورا سمجھ جائیں کہ وہ ابھی فضا میں نئے ہیں اور ابھی ہماری قومی ائر لائن کے مزاج سے آ شناء نہیں ہو پائے.
اگر آپ کے جانے سے پہلے ہی کوئی آپکی سیٹ پر دراز ہو چکا ہو تو بھی دل برا نہ کریں کیونکہ سارا جہاز ایک ہی وقت پر منزل مقصود پر پہنچے گا.
اپنی سیٹ پر چپکے سے بیٹھ جائیں اور جہاز اڑنے سے پہلے پانی کا مطالبہ نہ کریں.انتہائی مجبوری میں ایسا کرنے کی صورت میں زیرلب ترش جملے اور زہر خند مسکراہٹ کا عملی مظاہرہ دیکھنے کے لئے تیار رہیں.
موسم کے گرم سرد کی شکایت کر کےاپنا دل خراب ہرگز نہ کریں کیونکہ ایسے معاملات کا تسلی بخش جواب عملے کے کسی فرد کے پاس نہیں ہو گا.
اگر آپ اکانومی کلاس کے مسافر ہیں تو پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کسی چہرے کو دیکھنے کی خواہش دل سے نکال دیں. خدا غارت کرے میرے تخیل کی اس پرواز کو کہ اس ڈبے میں بیٹھ کر مجھے کسی سرکاری ہسپتال کے وارڈ کا خیال آتا ہے.
جیسا کھانا آپ کے سامنے رکھا جائے چپ چاپ کھا لیں. کھانے کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں. یوں سمجھ لیں کہ کسی ناراض رشتہ دار کے ہاں مہمان آئے ہوے ہیں.
کھانا بانٹنے والی مہربان سے بات چیت کی کوشش نہ کریں کیونکہ ملٹی ٹاسکنگ سے نقصان کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے.
کھانا کھانے کے بعد جب بتیاں بجھا دی جائیں تو چپ چاپ آنکھیں موند کر لیٹ جائیں.خوامخواہ بتیاں جلانے' فضائی میزبان کو بلانے کی سعی لا حا صل نہ کریں.
یہ ضروری نہیں کہ فضائی میزبان کے لئے بجائی گئی گھنٹی یا روشنی کے سگنل پر کوئی آئے اس لئے صبر کا دامن مت چھوڑیں.
سامنے لگی ہوئی سکرین کو ایک شیشہ سمجھیں اور اپنا حلیہ ٹھیک کرنے کا آدھاـادھورا زریعہ جانیں. اس کو ٹی وی کا متبادل سمجھیں گے تو آپ کو صدمہ ہو گا. ریموٹ کی مدد سے اس کو چلانے کی بے کار کوشش کرنے سے آپ پر جھنجلاہٹ طاری ہو سکتی ہے.اس لئے خود کو پریشانی میں مبتلا نہ کریں.
اگر آپ کسی دوسری سیٹ پر چھوٹی سی تکیہ نما کوئی چیز دیکھیں تو سمجھ لیں کہ اس بندے کی پی آئی اے کوئی بڑی پہنچ ہے.ورنہ ہر کس و ناکس کو یہ اعزاز نصیب کہاں.
یہ ضروری نہیں کہ ہر دفعہ پانی کہنے پر آپ کو پانی ہی ملے. صبر کا شربت اور لہو کے
گھونٹ پینے کے لئے بھی تیار رہیں.
کوشش کریں کہ جہاں تک ممکن ہو ٹائیلٹ جانے سے اجتناب کریں اور اگر ایسا 
مجبوری ہو تو اس کو پبلک ٹائیلٹ سمجھ کر ہی جائیں .
کسی ہوائی میزبان کی آنکھوں میں رتجگا دیکھیں اور استفسار کر بیٹھیں تو پی آئی 
اے کی نااہلی اور اس کی مشکل نوکری کی روداد سننے کے لئے تیار رہیں۔
اگر کوئی ساتھی مسافر پی آئی اے کی ماٹھی سروس، تکیہ یا کمبل نہ ملنے کا گلہ کرے تو اس کو بھی صبر کی تلقین کریں اور اپنا جی برا نہ کریں۔ 
آپ کے اردگرد کی سیٹوں پر کوئی سالوں کے بچھڑے ہوئے اچانک مل بھی سکتے ہیں جو یورپ کے کسی ایک ہی شہر کے کسی محلے میں بس رہیں ہیں ان کی گپوں اور نسٹلیجا کو ببانگ دہل سننے کے لئے خود کو تیار کرلیں آخر کو آپ پاکستان تشریف لا رہے ہیں تو ہوائی جہاز کا یہ سفر آپ کو باقی آنے والے دنوں میں عوامی جگہوں پر شور شرابے میں خوش رہنے کی عملی تربیت کا پہلا سبق ہو گا۔ 
جب آپ پی آئی اے کی جہاز پر پہلا قدم رکھ لیں تو سمجھ لیں کہ آپ کا وہ قدم پاکستان میں ہے، اس لئے اپنے اندر کا مہذب، یورپی ، امریکی وغیرہ ائیرپورٹ پر چھوڑ آئے اور ذہنی طور پر کسی بھی قسم کے پاکستانی رویے کے لئے تیار ہو 
جائیں۔ 
امید واثق ہے کہ ان مشوروں پر عمل کر کے آپ پی آئی پر خوشگوار سفر کرنے کے قابل ہوں گے۔ 
نوٹ یہ بلاگ دسمبر دوہزار پندرہ میں لکھا گیا تھا، اس کے بعد پی آئی اے پر پہ در پہ کچھ مصیبتیں آئیں تو اس مشکل گھڑی میں ہم نے یہ بلاگ چھاپنا مناسب نہ سمجھا۔ جیسی بھی ہے پاکستانی ائیر لائن ہے ہم تو اسی پر سفر کریں گے۔