پردیسیوں کی جانب سے پیغام جشن آزادی

بجھا جو روزں زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہو گی۔۔۔۔۔ہم پردیسیوں کے لئے وطن کی یادیں سانسوں کے ساتھ جڑی ڈور کی مانند ہیں، ہر خبر جو دیس والوں کے دلوں کو دہلاتی ہے پردیسوں کی روحوں کو تڑپا جاتی ہے۔ ۔۔زلزلے کا کوئی جھٹکا اخبار کی خبروں سے جونہی ٹکراتا ہے، ، ایک ضرب سی پردیسیوں کے دل کو لگتی ہے۔ جب کبھی وطن کسی مصیبت سے دوچار ہوتا ہے پردیسوں کی بے چینی حد سے بڑھتی ہے۔ آپ ان جذبات کو محسوس نہیں کرسکتے جب تک آپ نے بے وطنی نہ دیکھی ہو ۔۔۔۔کہنے والے نے کہا تھا کہ
بیٹھ جاتا ہوں، جہاں چھاوں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

وہ دن بہت خوبصورت تھے جب میں اپنے وطن میں آباد تھا، ایک دوستوں کا ہجوم تھا میرے چاروں طرف، جامعہ کے دوست گواہ ہیں کہ جب یونیورسٹی کوریڈور کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جاتے تو سینکڑوں مسکراہٹوں اور سلام نچھاور ہوا کرتے تھے، جن دنوں موبائل کے پیغامات ابھی مفت نہ تھے تب بھی ہمارے موبائل کا پیغام والا خانہ بھرا ہی رہتا تھا۔۔۔صبح کے ناشتے سے رات کی آخری چائے تک زندگی کا ہر لمحہ محبتوں کے خراج لیتے اور محبتوں کے خراج دیتے گذر جاتا تھا۔۔۔۔کسی کو خراش بھی آئی تو لہو نچھاور کرنے والے دوست آ موجود ہوئے، کبھی کسی سے بحث بھی ہوئی تو دوست دوستوں کی خاطر ہاتھا پائی تک جا پہنچے۔۔۔۔اور مجھ ایسا لاابالی جس نے پانچ سال میں پانچ نوکریاں تبدیل کی ہوں ہر لمحہ یہی دہراتا رہتا کہ
یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

ان محبت بھرے دنوں میں کبھی سوچا بھی نہ تھا یہ ان خوبصورتوں چہروں کی خدوخال بس عارضی ہیں، مرجھا جانے والے ہیں، بدل جانے والے ہیں۔۔۔۔۔میں چند دنوں کے لئے وطن سے نکلا تھا، بس چند مہنوں کی بات تھی۔۔۔زیادہ لوگوں کو بتایا بھی نہیں، دوست اب تک گلہ کرتے ہیں۔۔۔بس امریکہ کے سفر پر چل نکلا۔۔۔۔پھر وہاں سے ڈنمارک ۔۔۔۔اور اب پانچ برس گذر گئے۔۔۔۔اور خود کو پردیسی محسوس کرنے لگا ہوں، گوکہ سال میں دو دفعہ پاکستان جاتا ہوں مگر پھر بھی وہ دوستوں سے ملنے کی پیاس ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔۔
ہاں مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان پانچ سالوں میں وہاں بے شمار تبدیلیاں آ چکیں۔۔۔بہت سے دوست گھرداری کی ذمہ داری میں ایسے الجھے ہیں کہ کسی فون کا جواب تک دے نہیں پاتے، کئی احباب کو اچھی نوکریوں کا پروٹول ہڑپ کر گیا۔۔۔وہ بس ہمارے رسمی سی دوست رہ گئے۔۔۔۔کئی دوست زندگی کی دوڑ میں اتنے پیچھے رہ گئے کہ وہ خود بخود ہم سے دور ہوتے چلے گئے۔ کچھ کو ہماری بے اعتنائی لے ڈوبی۔۔۔
پہلے ایک آدھ سال تو دوست تواتر سے یاد کرتے رہے مگر جب ہمارے پردیسی ہونے کے ارادوں کو تقویت ملنے لگی تو دوستوں کو لگا کہ ہم شاید واپس آئیں ہی نا اور انہوں نے آہستہ آہستہ اپنی زندگیوں سے ہماری جگہ کو کسی اور سے منسوب کردیا۔۔۔
وطن سے دور رہنے والے بخوبی سمجھتے ہیں کہ اپنوں سے دور رہنا کتنا دشوار ہے، کچھ اسلامی ممالک میں عید اور دیگر اسلامی تہوار محسوس کئے جا سکتے ہیں مگر یورپ و امریکہ میں پردیسیوں پر تہوار کیونکر گذرتے ہیں ایک الگ باب کے متقاضی ہیں۔ کتنے بخار اور بیماریاں کسی کے پرسے کے بغیر گذر جاتے ہیں، اجنبی لوگوں کی اجنبی زباتیں جتنی بھی بول لی جائیں ان میں اپنی بازاروں اور اپنے لوگوں کی اپنی زبان کی لوچ اور مٹھاس محسوس تک نہیں کی جا سکتی۔ ڈنمارک کے پہلے دو سال میں نے گونگوں بہروں کی سی زندگی گذاری۔۔۔اب گو کہ میں تھوڑی بہت زبان بول اور سمجھ لیتا ہوں لیکن پھر بھی کسی لطیفے اور مذاق میں فرق کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔۔۔۔ایک آدھ دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ اپنے خیال میں کسی کی تعریف کر رہا تھا لیکن درحقیت اس کی تحقیر ہو رہی تھی۔ بڑی مشکل سے ساری سچوئشن کو سنبھالا۔۔۔۔روزگار میں پیش آنے والی مشکلات ، روز مرہ میں پیش آنے والی مشکلات۔۔۔۔۔۔اس مشینی زندگی میں آدمی کو احساسات کے بغیر ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونا ہوتا ہے۔ صبح چھ سے شام چار بجے تک آدمی دفتر کی گھڑیوں کے ساتھ دوڑ دوڑ کر خود ایک چھوٹی سی بے حس مشین کا روپ دھار لیتا ہے۔ ایسے میں اپنی فیملی اور پاکستان میں موجود فیملی کے مسائل کو ساتھ لے کر چلنا ایک امتحان سے کم نہیں۔ چھوٹے بہن بھائیوں کی ضروریات، ماں باپ کا سہارا بن جانے کی آرزو، کسی کا قرض اتارنے کا بوجھ آدمی کو بھاگتے رہنے پر اکساتے رہتے ہیں۔ ایسے میں حکومتوں کی ماٹھی پالیساں ٹیلی فون  پرٹیکس، رقم بھیجنے پر ٹیکس، روپے میں تبدیلی پر بنکوں کا من مانا ریٹ، ان غموں سے علاوہ ہیں۔
دیس میں بیٹھ کر پردیسیوں پر آواز کسنا انتہائی آسان کام ہے اور ہمارے لکھنے والے اس فرض کو بخوبی نبھاتے رہتے ہیں۔ ان کا موقف ہوتا ہے کہ پردیسی دیس کے معاملات میں ٹانگ کیوں اڑاتے ہیں، ان کو اگر دیس سے محبت ہے تو یہاں اپنے لوگوں میں ؔآ کر کیوں نہیں بستے، لوڈشیڈنگ برداشت کیوں نہیں کرتے، بموں اور دہشت گردی کا جواں مردی سے سامنا کیوں نہیں کرتے۔ پردیسی ڈرپوک ہیں اور پاکستان کے حالات سے ڈر کر بھاگے ہوئے ہیں۔ ان کو کوئی حق نہیں کہ پاکستان کو سدھارنے کی خواہشوں کا اظہار بھی کریں۔
ایسی باتیں بارہا پڑھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کہہ تو یہ ٹھیک ہی رہے ہیں کہ ہم لوگ وطن کی بظاہر اچھی نوکریاں چھوڑ کر پردیس میں بظاہر ماٹھی نوکریاں کیوں کرنے پر مجبور ہیں۔ ان سوالوں کے جواب آپ خود بھی دے سکتے ہیں کہ پاکستان میں بس کر ایک عام نوکری کے سہارے اپنے گھر کے حالات نہیں بدلے جا سکتے ، جب کہ پردیس کی مزدوری سے بھی اپنے گھر کی اکانومی کو مضبوط سہارا دیا جا سکتا ہے۔ بس اسی آرزو کی ڈور تھامے بہت سے دوست سر جھکائے پردیس کی مزدوری میں دل کو لگائے رکھتے ہیں۔
پاکستان میں بسنے والے ہمارے پاکستانی بھائیوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ اپنے دیس کو تج کر باہر آنے والے پاکستانی انہی کی طرح پاکستان کے متعلق متفکر رہتے ہیں، وہ بھی آپ ہی طرح پاکستان کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ باہر کے اچھے سسٹمز کو دیکھ کر ان میں یہ خواہش بیدار ہوتی ہے کہ ہمارا اپنا ملک ایسا کیونکر نہیں ہو پاتا۔۔۔۔ہم لاکھ پاکستان سے باہر ہوں ہمارا دل ہر پاکستانی کے ساتھ دھڑکتا ہے۔
اور جب بھی ہر سال کی طرح چودہ اگست کا دن پردیس میں آتا ہے پاکستانی اسی ولوے کے ساتھ پاکستان سے باہر بھی پاکستان کا دن مناتے ہیں۔ ۔۔۔اس عزم کے ساتھ اپنے وطن کی ترقی میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے۔ اور گلہ کرنے والوں سے بس یہی کہتے ہیں کہ
ہم تو مجبور وفا ہیں مگر اتنا تو بتا
اپنے عشاق سے بھلا ایسے بھی کوئی کرتا ہے۔
پردیسوں کی جانب سے جشن آزادی مبارک