شہرت انسان کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے

شہرت انسان کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے‘‘
جی ہاں جناب صدر! شہرت انسان کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے! جناب صدر! شہرت اس شان و شوکت کی کیفیت کا نام ہے جب کسی شخص کا نام بام عروج پر ستارہ بن کر جگمگاتا ہو۔ جب چار دانگ عالم میں اس کی شہرت کے ڈنکے بجتے ہوں ۔ جب وہ لوگوں کو نہ جانتا ہو۔ لوگ اس کو جانتے ہوں۔ جب اس کے چاہنے والے سینکڑوں میں ہوں۔ جب وہ گھر سے نکلنے کا ارادہ کرے تو گھر کے دروازے پر لوگوں کا ہجوم اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب ہو۔ جب چھوٹے چھوٹے بچے آٹو گراف کی کاپیاں تھامے اس کے لکھے ایک لفظ کے منتظر ہو جائیں جب خوبرو لڑکیاں اس کے دستخطوں کیلئے اپنے رخسار پیش کردیں جب مرد اس کو دیکھ کر تعظیم سے کھڑے ہو جائیں۔
جناب صدر! یہ شہرت ہے اور ’’انسان کی زندگی‘‘ سے مراد کسی شخص کا کاروبار نہیں بلکہ روز مرہ کے معمولات ہوا کرتے ہیں۔ ایک عام آدمی کی زندگی یہ ہے کہ صبح کام پہ نکلتا ہے۔ شام ڈھلے واپس آتا ہے۔ کوئی خوشی ہو تو شریک ہو جائے کہیں غمی ہو تو ادا س ہو جائے۔
لیکن کسی شہرت یافتہ شخص کیلئے زندگی کے معمولات بہت مشکل ہو جا تے ہیں جیسے ورلڈ کپ ہارنے کے بعد کھلاڑی بر قع پہن کر باہر نکلنے پر مجبور ہو جائیں۔ جیسے پرستاروں سے بچنے کیلئے شان اپنی گاڑی کے شیشے کالے کروائے۔ آٹو گرافوں سے بچنے کیلئے ریما کو لوگوں سے بد کلامی سے پیش آنا پڑے۔
شہرت یافتہ آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو جاتی ہے۔ جب کبھی اسے کسی دوست عزیز کے ہاں جانا پڑ جاتا ہے۔ اُدھر دولہا دلہن کی رخصتی ہو رہی ہوتی ہے۔ اِدھر لوگ اپنے من چاہے سٹار کو گھیر کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی کسی غمی کے موقعہ پر لوگ مرنے والے پر اظہار تعزیت کر رہے ہوں اور کوئی ’’ستارہ‘‘ کوئی مشہور آدمی آ پہنچے بس پھر لوگ مرنے والے کو بھول کر اپنے تعلقات بڑھانے کے چکر میں اس مشہور آدمی کے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
جی ہاں جناب صدر!
شہرت آدمی کی زندگی کو مشکل سے مشکل تر بناتی ہے کہ شہرت کسی بھی مشہور شخص کو ایک مصنوعی زندگی عطا کرتی ہے۔ جب قائدِ اعظم اپنے آخری ایام میں کوئٹہ سے کراچی آنے والے تھے تو ان کو اسٹریچر پر لٹایا گیا تھا۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق انہیں اسٹریچر پر سے اٹھنا منع تھا مگر شہرت مشہوری کی مجبوری تھی کہ لوگوں کا محبوب قائد بانی پاکستان انہیں ’’ایک سینہ تانے ہوئے سپاہی‘‘ کی طرح نظر آئے۔ پھر قائد اپنی ہمت کے بل بوتے پر ایمبولینس سے اسٹیشن تک جاتے ہیں اور لوگوں کے نعروں کا خوش دلی سے جواب دیتے ہیں۔
صاحب صدر!
شہرت انسان سے ہنسی چھین لیتی ہے اور بدلے میں ایک مصنوعی مسکراہٹ عطا رکتی ہے۔ شہرت انسان کے چہرے سے تازگی چھین کر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے۔ شہرت دل کے جذبوں کو باندھ کر رکھ دیتی ہے۔شہرت انسان کی آرزؤں کو قید کر دیتی ہے۔شہرت انسان کو انسان بننے نہیں دیتی ہے۔پھر مشہور آدمی لوگوں سے ملنے سے ڈرنے لگتے ہیں۔پھر ان کی گاڑیوں کے شیشے کالے ہو جاتے ہیں۔پھر عام لوگوں کے جانے کی جگہوں پر جانا ان کے لئے ممنوع ہو جاتا ہے۔پھر عام آدمی کی طرح رونا، ہنسنا ان پر نہیں پھبتا غرضیکہ شہرت انسان کو مجبور کر دیتی ہے ۔ معذور کر دیتی ہے۔ اس کی زندگی کو مصنوعی کردیتی ہے۔
اس لئے میں کہتا ہوں۔
شہرت انسان کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے۔