سہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیں (قراداد)

سہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیں (قراداد)
جنابِ صدر!سہارے زندگی ہیں کیونکہ دیوار کیلئے در سہارا۔۔۔۔۔در کیلئے گھر سہارا گھر کیلئے سر سہارا۔۔۔۔ سر کیلئے دھڑ سہارا بلکہ میں تو کہتی ہو ں کہ ۔۔۔زندگی سہاروں سے جنم لیتی ہے۔۔۔تخلیقِ آدم کی کہانی نغمہءِ الست کے سہارے کی محتاج ہوئی۔ پیدائش نوع انسانی ماں اور مامتا کے توسط سے جنم لیتی ہے۔پھول اور پھل ثمر ہیں اس درخت کے وجود کا جس کے سہارے یہ تتلیوں اور خوشبوں کو مسحور کرتے ہیں۔پرندے پروں کے سہارے۔۔۔۔سنگ و خشت دروں کے سہارے۔۔۔۔گھر گھروں کے سہارے۔۔۔دل دلبروں کے سہارے۔۔۔رنگ رنگت کے سہارے۔۔خوشبو پھول کے سہارے۔۔۔اور زندگی خدا کے سہارے
جنابِ والا!
سہارا استعارہ ہے پیار اور محبت کا، کہ جب باپ بوڑھا ہو جائے تو جوان اولاد سہارا کہلایا کرتی ہے۔سہارا نام ہے بھائی چارے اور اخوت کا، کہ تمام مسلمان ملک اسلامی سربراہی کانفرنس کی لڑی میں پرو ہو کر ایک دوسرے کا سہارا بنا کر تے ہیں۔سہارا نام ہے اس حوصلے کا ، اندلس کے ساحلوں پر کھڑے طارق کی فوجوں کو وہ تقویت سونپ دیتی ہے کہ وہ اپنی کشتیاں جلا دیتے ہیں۔سہارا نام ہے اس سعی کا جو سندھ کے ڈاکوؤں کے مقابلے میں بن قاسم کو حجاز سے بر صغیر کھینچ لاتی ہے۔سہارا نام ہے اس تسلسل کا کہ جس کے سہارے محمود غزنوی ہند وستان پر 17حملے کرتا ہے۔سہارا نام ہے اس فضائے بدر کا کہ جب 313ہزاروں کے مقابلے میں آکھڑے ہوتے ہیں۔سہارا نام ہے اس صبر کا ۔۔۔کہ جب پر وانے کیلئے، چراغ اور بلبل کیلئے پھول بس اور صدیق کیلئے اللہ کا رسولؐ بس ہو،۔۔۔ حضورؐ پوچھیں کہ صدیق گھر میں کیا چھوڑ آ ئے ہو تو صدیق کہیں اللہ اور اس کے رسول ؐ کا نام۔سہارا نام ہے اس اعتماد کا جب حضرت موسیٰ کی والدہ ان کو نیل میں بہا دیں اور موسیٰ فر عون کے محل میں پرورش پائیں۔سہارا نام ہے اس غیبی مدد کا جو شداد کو بحری بیڑے کی تباہی کے بعد بچ کر جزیروں میں پرورش پا ئے اور با لآ خر ایک ملک کا بادشاہ بن جا ئے۔
ارے سہارا تو وہ سہارا جو ابراہیم کے آگ میں گر نے سے پہلے اس کو گلزار کر دے۔ارے سہارا تو وہ سہارا جو یوسف کے چاہ میں گر نے سے پہلے جبرائیل کے پروں کی صورت نمودار ہو ا کر تا۔ارے سہارا تو وہ سہارا ،جو صلیب پر سے عیسیٰ کو زندہ سلامت اٹھا لیا کرتا۔ارے سہارا تووہ سہاراہے، کہ میرا رسولؐ صدیقؓ سے کہے، غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ارے سہارا تو وہ سہارا ہے ،جوحضرت علی کو ہجرت کی رات آنحضورؐ کے بستر پر سلا تا ہے۔ارے سہارا تو وہ سہاراہے جو ابر ہہ کے ہاتھیوں کو پرندے کے ہاتھوں موت بھیجتا ہے۔ارے سہارا تو وہ سہارا ہے،جو ابراہیم لودھی کے ایک لاکھ لشکر پر بابر کے 10ہزار کو فتح دیا کرتا ہے۔ارے سہاراتو وہ سہارا ہے جو در یا ئے نیل میں راستے بنا یا کر تا ہے۔ارے سہارا تو وہ سہارا
جو عصا ے موسیٰ بن کر سا نپوں کو نگل جا یا کر تا ہے۔ارے سہارا تو وہ سہارا ہے، کہ شہادت کی آرزولیکر میرے جوانوں کو ٹینکوں کی باڑوں کے آگے لٹا دیتا ہے۔ارے حسبی اللہ کی قسم سہارا تو وہ سہارا ہے کہ نبی مکرم کہیں،اگر تم میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں پر چاند رکھ دو تو بھی اپنا دین نہیں چھوڑوں گا۔
ارے تم کہتے ہو سہارے۔۔۔ استقامت چھینتے ہیں ، میں کہتا ہوں کہ زندگی تو چلتی ہی سہاروں کے ذریعے ہے۔
جنابِ صدر! آئن سٹائن کا نظریہ کہتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز دوسری چیز کے دم سے ہے۔ ہم اگر سفر کر رہے ہیں تو اس جگہ کے مقابلے میں جو ساکن کھڑی ہے۔اور مسلمانوں کو جب عضوِ واحد کہا جاتا ہے تو یہ بھی کہا جاتا کہ ہر عضو دوسرے عضو کو سہارا دیتا ہے۔ جب دل کی بات ہو تی ہے تو لہو ’’دماغ‘‘ کے حکم سے جگہ جگہ پہنچتا ہے۔جب زندگی کی بات چلتی ہے تو غدائی چکرسے لیکر فضائی چکر تک ہر چیز ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہے۔جی ہاں یہی سہارے ہیں جو زندگی دیتے ہیں۔ جو زندگی دیتے ہیں، خوشیاں با نٹتے ہیں، اور حوصلہ سوپنتے ہیں ۔۔۔کہ طے کر لیا سمندر اللہ کے سہارے۔