دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

’دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ‘‘
جنابِ صدر و معزز سامعین! آج کی اس تقریب میں جس موضوع پر اظہار خیال کروں گا۔ وہ ہے
’’دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو‘‘
جی ہاں! جناب صدر! یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کا لفظ انس سے نکلا ہے اور ’’انس‘‘ محبت سے تعبیر ہے اور اگر ’’محبت کے خمیر‘‘ سے اٹھا یا گیا انسان ، دردِ دل کو چھوڑ دے تو انسانیت ناپید ہو جاتی ہے۔ پھر انسان ، انسان نہیں رہتا بلکہ حیوان ہو جاتا ہے۔
تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ہمارے آ با ء نے دردِ دل کے وہ دل آویز قصے چھوڑے ہیں جن پر آج بھی ہمارا سر فخر سے بلند ہے۔
کہ ہماری تاریخ آج بھی دشمنوں کے بچوں، بوڑھوں، عورتوں کو امان عطا کرتی ہے۔کہ ہم آج بھی قتل کے بدلے قتل پر معاف کر نے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کہ ہم فاتح بن جائیں تو دشمن کی فصلیں نہیں اجاڑتے۔ عورتوں کو بیوا نہیں بناتے۔عزتوں کو تاراج نہیں کرتے۔ بلکہ جہاں جہاں سے گزرتے ہیں ہماری بڑوں کی مورتیاں بنا کر لوگ ان کی پو جا کرنے لگتے ہیں کیونکہ انسانیت یہی ہے کہ
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطا عت کیلئے کچھ کم نہ تھے کرّو بیاں