سائنس کی ترقی سے انسانیت کو عظیم خطرات درپیش ہیں

سائنس کی ترقی سے انسانیت کو عظیم خطرات درپیش ہیں‘‘
جی ہاں جناب صدر!سائنس کی ترقی سے انسانیت کو عظیم خطرات درپیش ہیں کیونکہ ٹینکوں کی باڑوں کے آگے’’ تدبیر کے غلیلے‘‘ ناکام ہو تے دکھائی دیتے ہیں۔ ایٹم کی ایجادات نے ایٹمی بموں کو جنم دے دیا ہے۔ مالیکیول زہر یلی گیسوں کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ آبی بخارات آنسو گیس میں ڈھل چکے ہیں۔ایندھن اب تپش پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ زہریلے کلورائیڈ اور فلورائیڈ اگلنے لگے ہیں کہ سانس لینا دشوار ہو گیا ہے۔ اب تو حال تو یہ ہے کہ
پھیلی ہوئی بدن میں اذیت ہے آجکل
نکھری ہوئی خیال کی رنگت ہے آجکل
آلو د ہو رہی ہے میرے شہر کی فضا
تازہ ہوا میں سانس بھی نعمت ہے آجکل
جی ہاں ! یہ سائنس کی ترقی کی پناہ کاریاں ہی ہیں جو ’’میٹر"Cow Disease"کو جنم دیتی ہیں۔
جی ہاں! سائنس کی ترقی انسانیت کیلئے عظیم خطرہ بنتی جا رہی ہے۔کہ اب سپاہی ہزاروں میل دور سے چلائے ہوئے ’’ٹارگٹ میزائل‘‘ کی زد میں جھلس جایا کر یں گے۔
اب برائلر پروڈکشن کے مرغے کھا نے سے ’’برڈ فلو‘‘ بھی پھیلنے لگا ہے۔
اب کمپیوٹر سے نکلنے والی شعاعیں آنکھوں کے نور کو بے نور کر نے لگی ہیں۔اب ایٹم بم کے ہاتھوں ہیر و شیما اور ناگا سا کی کی اندھی نسلیں دو بارہ اپنی تاریخ دہرانے کو ہیں۔نجانے چاند کی تسخیر کے چاؤ میں ہم کرہ ارض کے چراغوں کو کیوں بھول گئے ہیں۔
اب ہماری سائنس کی ترقی کو ایسے موڑ کی ضرورت ہے کہ ہماری اگلی نسل بہری اور گونگی پیدا نہ ہو ۔ کوئی ایسا رخ دینے کی ضرورت ہے کہ کسی دشمن کا بھی گھر نہ اجڑے۔ خدا
کر ے کہ میری نواہا ئے سحر گاہی سے زندہ ہو جائے وہ آتش جو میری خاک میں ہے۔