آزاد ی افکار ہے ابلیس کی ایجاد

آزاد ی افکار ہے ابلیس کی ایجاد‘‘
صاحبِ صدر! ماننے کیلئے جاننا ضروری نہیں، اسلام کی تعلیمات پر یقین کا عندیہ سناتی ہیں کہ جب ’’حکم‘‘ سنا دیا جائے یا پھر کوئی بندش لگادی جائے تو پھر کوئی تاویل اسکو پس پشت نہیں ڈال سکتی۔ آزادی افکار سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ تمام دماغی صلاحیتوں کو سلا دیا جائے بلکہ آزادی افکار سے مراد یہ ہے کہ جہاں ’’حکم‘‘ آ جائے وہاں سر تسلیم خم کر دیا جائے!
جناب صدر! جب اللہ عزو جل نے آدم کو تخلیق کیا تو سبھی فرشتوں کو اسے سجدہ
کر نے کا حکم دیا۔ سبھی فرشتے حکم خداوندی کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے مگر ’’ابلیس‘‘ کی آزادی افکار اسے انکار تک لے آتی۔ اس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ’’مردود‘‘ قرار دے دیا گیا!
جی ہاں جناب صدر!
جب کوئی حکم خداوندی سے منکر ہو جا تا ہے تو فر عون کی مانند اس کی لاش آنے والوں کیلئے عبرت بنادی جاتی ہے۔جب کوئی آزادی افکار کی زد میں آکر نمرود بنتا ہے تو ایک ادنیٰ سا مچھر اس کو اس کی اوقات یاد دلاتا ہے۔ مگر جناب صدر! سب سے پہلے ’’آزادی افکار‘‘ یعنی فطرت کے حکم سے انکار کو ابلیس نے اپنا یا تھا۔ اس لئے وہ جہاں میں شیطان بن گیا۔ غرضیکہ آزادی ، اظہار حکم سے دوری کا نام ہے۔ تسلیم سے دوری کا نام ہے اور تسلیم کے بعد تحقیق انسان کو گمراہ کر دیتی ہے۔ اور تسلیم کا کہ تقاضا ہے کہ ہر حکم کو حکم سمجھ کے مانا جائے کیونکہ
آزادی افکار ہے ابلیس کا ایجاد