مقرر کے لئے باڈی لینگوئیچ کی اہمیت

 
 باڈی لینگوئیج کے لئے میں نے زبان بے زبان کا ترجمہ تراشہ ہے۔
دوستو۔
لمس کے ہاتھوں سے سوالات ہوں تو پوروں سے جوابات کی مہک بھی ضرور آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوالی کی خود داری کو آنکھوں سے پڑھنے والے کونسی زبان جانتے ہیں۔ بچے کے ذہن میں لفظوں کی عطا سے پہلے ’’ادا‘‘ کی کلید کون بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! تصویر کے رنگوں سے جو پیکر بنتا ہے اس کی کہانی کی زبان کونسی ہے؟ یقیناکوئی ایسا واسطہ ضرور ہے جو لفظوں کا محتاج نہیں۔ دل کو دل سے راہ ہونے میں لفظ کبھی دیوار نہیں بنتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! ہاں یہ زبان بے زبان بہت خوشگوار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے کسی ادا کی ادائیگی کے لیے سماعت ہمہ تن گوش ہو جاتی ہے ویسے ہی کبھی کبھار اظہار سارے بدن میں اگنے لگتا ہے۔پھر لفظوں کی حاجت نہیں رہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اور آہستہ کیجئے باتیں کان رکھتے ہیں درو دیوار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راز کی ساری بات سن لیں گے کے مصداق باتیں اور آہستہ اور آہستہ اور پہلے بات خفی پھر سکوت بھی سخن کا مرحلہ آجاتا ہے۔ دوران تقریر ’’بے زبان کی زبان‘‘ بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر اس جگہ زبان کو سہارا دیتی ہے جہاں زبان کے بس کی بات نہیں کہ جذبے کہ شایان شان لہجہ اختیار کرے۔۔۔۔۔۔۔
پھر زبان کی لہر سے ایک رو نکلتی ہے اور مقرر کی انگلی سے جا لپٹتی ہے اور وہ کسی فنکار کی طرح اس ہالے کو گھماتا ہے اور رنگین چھلوں کے جال بنا بنا کر سامعین پر پھینکتا ہے ۔ سامعین کبھی لفظوں کی چھنک سنتے ہیں اور کبھی انگلی کی مشعل سے منعکس آواز کی لو میں مضطرب جذبے سے بھیگتے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ آواز تو دہن سے آتی ہے مگر یہ ہاتھ کی زبان اس سے زیادہ مؤثر کیوں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر آپ کو باڈی لینگو ئج پر عبور حاصل ہے۔۔۔۔۔۔ چلئے عبور تو بہت دور کی بات ہے آپ کی آشنائی بھی ہے تو آپ کی قوت ادائیگی میں دو گنا اضافہ ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کے ہاتھ آپ کی بات کے ساتھ چلتے ہیں ۔ اگر آپ کا چہرہ بھی وہی کہتا ہے جو آپ کی زبان کہہ رہی ہے تو آپ کو ادا ہونے کا ہنر آتا ہے۔
آپ نے یقیناً بولتی آنکھوں کا استعارہ سنا ہوگا۔۔۔۔۔۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب آنکھوں کی بولی میں بات چل رہی ہو تو زبان کے لفظ ہیچ ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اس میں توازن آجائے کہ زبان اور آنکھیں مل جائیں تو پھر بزبان فراز نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یقیناًاثر دوآتشہ ہو جاتا ہے۔ اور اگر ان کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو بھی زبان مل جائے تو کیا کہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!ہاتھوں کو لفظوں کی زبان سے ہاں میں ہاں ملاتے میں نے اکثر دیکھا ہے کہ مقرر کو جوش دوبالا ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! اس کی بات میں اثر انگیزی بڑھ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کیلئے سامعین کی توجہ بڑھ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غرضیکہ باڈی لینگوئج کا درست استعمال ہر صورت میں فن تقریر کو چار چاند لگاتا ہے۔مگر کہتے یوں ہیں کہ
؂ یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہر یک دانہ
یا پھر یوں کہ
ظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہوئے تاتا ری
یا پھر یوں کہ
سو بار کٹا جب عقیق تب نگیں ہوا
ٍ یا پھر یوں کہ
دانہ خاک میں مل کرگل وگلزار ہو تا ہے۔
یا پھر یوں کہ
وقت کر تا ہے پرورش برسوں
تب خاک کے پردے سے مقرر نکلتا ہے۔ تب زبان و بے زبانی کی ادائیں مل کر ادا ہونے لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! تب کہیں اس توازن کی سمجھ آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ کہاں اور کب زبان کی ادائیگی کے ساتھ اپنے جسم کی جنبش سے گفتگو اور موثر کرنا ہے۔
اگر آپ اچھا بولنے والے ہیں اور اپنے جسم کی زبان سے آگاہ نہیں تو خدا را آج اسے ضرور ڈھونڈئیے کہ آپ کے کس لفظ کی جنبش سے آپ کی کونسی انگلی میں گردش پیدا ہو تی ہے۔۔۔۔۔۔ محبت کے لفظ سے جسم کے کس حصے کی تار جڑی ہو تی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نفرت کے نام سے سنسنی کی لہر کا اختتام کس عضو پر ہو تا ہے۔ جذبوں کی آہٹوں سے گمگ پیدا ہو تو لرزہ کہاں پیدا ہو تا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! پھر ملائیے اس انگلی کو اس لفظ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زبان و دل کی آواز کے ساتھ جب انگلی گھو منے لگے تو سامعین کی سما عتیں کھڑ کھڑ انے لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جسم کی جلد پر الفاظ کی حرکت محسوس ہوتی ہے۔ میں نے خود لفظوں کو اپنے اندر اتر تے محسوس کیا ہے۔۔۔۔۔۔ ایک احساس جو پیروں کے انگوٹھے سے سر کے بال تک پہنچتا ہے۔۔۔۔۔۔ ایک ایسا احساس جو آپ کو صرف اچھا مقرر ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچنے کیلئے نہیں محسوس کرنے کیلئے!
لیکن مبارکباد کا اصل مستحق تو وہی جادو گر ہے جس کے اسموں کو ہاتھوں کی رفاقت بھی حاصل ہے۔۔۔۔۔۔ جو اپنے ہوش کے بل پر سامعین کے حواس سے کھیلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اپنے لفظوں سے لوگوں کی جلد سے دل میں اترتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! اور اگر آپ کبھی پہنچے ہوں اسی مرحلے پر ۔۔۔۔۔۔ جب سامعین صرف ایک جذبہ بن کر رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ جب ہال میں صرف ایک آواز رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ جب مجمع کی گویائی سلب ہو کر رہ جاتی ہے، جب مقرر کے الفاظ لوگوں کے بدنوں پر چیونیٹیوں کی طرح رینگنے لگتے ہیں۔ جب سننے والے بے بسی سے ان لفظوں کی یلغار کو صرف دیکھ اور محسوس ہی کر سکتے ہیں اور کچھ کرنا ان کے بس میں نہیں ہو تا ہے۔۔۔۔۔۔ اگر آپ نے کبھی وہ ایک لمحہ محسوس کیا ہو تو میں کہتا ہوں آپ دنیا کے سب سے بڑے نشے سے آشنا ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! کیونکہ اس سے طاقتور کوئی نہیں جس کی بات سننے پر سب مجبور ہوں اور اس سے بے بس کوئی نہیں۔ جس کے بدن پر لفظ رینگنے لگیں اور زبان سے ایک لفظ نہ کہہ پا ئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
جس دن آپ کے بدن کی سبھی زبانیں یکجا ہو کر سامعین کو اس ایک لمحے میں لے جانے پر قادر ہو جائیں جہاں پر لفظ بدنوں میں ایک لہر دوڑاتا ہو تو اس دن سمجھ لیجئے گا آپ کو بولنا آ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔! لیکن ہوتا یوں ہے کہ اچھا بولنے والوں کو بھی بولتے بولتے بولنا آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایسے لمحے اور ایسے سامع بس یاد بن کر رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ خدا کرے آپ کے بھی نصیب میں ہوں!