گالیاں، قاسمی صاحب اور انٹرنیٹ جنریشن

چند روز پہلے اپنے دوست انجنییر جواد احمد کا سٹیٹس پڑھا، پتہ چلا کہ تحریک انصاف کے خلاف کوئی فقرہ لکھنے کی وجہ سے تحریک کے کسی متوالے نے ان کو عطا الحق قاسمی سمجھ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان سے سلوک بھی وہی کیا جس کا تذکرہ  انھوں نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔محترم عطا الحق قاسمی نے پچاس سال تک جو پھول، بوٹے بوئے ہیں ان کا صلہ سنگِ دشنام تو ہرگز بھی نہیں, لیکن پھلدار درخت اور خصوصا جب ہمسائے کے گھر ہوں ایسے حملے سہنا ہی پڑتے ہیں۔محترم سلیم صافی کا دل بھی تھوڑا بدمزہ ہے لیکن ان کا عزم مصمم ہے کے وہ اپنی مثبت تنقید میں کمی نہیں آنے دیں گے۔
بہرحال دو تین لکھنے والوں نے اتفاق کیا ھے کہ یہ پتھر تحریک انصاف کی جانب سے ہیں، بولتا پاکستان کے میزبان جناب نصرت جاوید  تو برملا ایسے لوگوں کے لئے فیس بک کے غنڈوں کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔

ویسے اس بات پر سوچے جانے کی ضرورت ہے کہ گالیاں صرف تحریک کے خلاف بولنے والوں کو میسر  آتی ہیں یا یہ ہمارے عمومی مزاج کا حصہ بن چلی ہیں۔۔۔اس سلسہ میں بزرگوں کی خدمت میں چند وضاحتیں پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ بچوں کی گستاخیوں پر وہ دل کھٹا نہ کریں۔۔
انٹرنیٹ ایک ایسی تہذیب ہے، جس پر ہم آنے والوں کی تربیت نہیں کر پائے۔جیسا کہ ہم بچوں کو شروع دن سےاشیاء کے کرنا یا نہ کرنا بتاتے ہیں، اور سمجھاتے ہیں کہ ھما ری فلاں کام سے متعلق اخلاقیات کیا ہیں، اس بات کی تربیت دینے والا کوئی نہیں تھا۔ ہما رے بڑوں نے اس کو سیکھنا مناسب نہیں سمجھااور چھوٹوں کو جب دس روپے میں دنیا بھر کی سیر کا ٹکٹ ملا تو انہوں نے سب سے پہلے وہ تلاش کیا جن کے بارے ان کو سب سے زیادہ تجسس تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کو یو ٹیوب پر ذاتی نوعیت کی ہزاروں ویڈیوز ملیں گی ، کہ سینکڑوں پردہ نشینوں کی چادریں لرزاں ہیں۔ آپ غور کیجئے کہ گانے، غزلیں، اور دیگر بے شمار اشیاء جن کا سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں ان ویڈیوز کے مندرجات پڑھیں، آپ کو جھٹکا لگے گا کہ باتوں میں گالیوں کی آمیزش کس حد تک بڑھ چکی۔ ،
میں یہ سمجھتا ہوں کی یہ گونگے لوگ تھے جو گنبدِ بے در کی صدا تھے، جن کی آواز نہ ان کے آقاؤں نے سنی، نہ اشرافیہ نے، اور نہ ہی جمہوریت کی کہانیاں لکھنےوالے ڈرامہ نگاروں نے، حتی کہ نہ ہی ان کے گھر والوں نے، ۔۔۔۔۔۔اور آج ان کے منہ میں زبان ہے، اور زبان بھی ایسی کے ساات سمندر پار سنائی دے۔۔۔۔۔وہ بے ہنگم شور نہ مچائیں گے تو اور کیا کریں۔۔۔۔لیکن میں امید کرتا ہوں کے بہت جلد ان بلبلوں کے نیچے سے صاف اور نتھرا ہوا پانی نظر آنے لگے گا، احباب خاطر جمع رکھیں اور نوجوان نسل سے دل چھوٹا نہ کریں اور تھوڑی دیر کے لئے ان کے دل کی آواز بھی سن کر دیکھں، ان سے پوچھیں تو سہی کہ ان کی پسند نا پسند کیا ھے، میں میڈیا کو بھی مشورہ دیتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ یوتھ شوز کریں تا کہ ھمارے نوجوان خود کو یو ٹیوب پہ براڈ کاستٹ کرنے کی بجائے کسی ملکی چینل پر کاسٹ ہو سکیں۔
دوسری اہم بات کہ تحریک میں اکثریت نوجوانوں کی ھے، جو ابھی زندگی کی مصلحتوں سے آزاد ہیں، جو اپنے من کی لو سے دیپ جلانےکا خواب آنکھوں میں رکھتے ہیں، آپ ان کی خواہش اور مرضی کے خلاف بات کر کے اپنی مرضی کی بات سننے کی تمنا کریں تو سعی لا حاصل ہو گا۔ میرے فیس بک پر داستوں کی تعداد تیئس سو کے لگ بھگ ہو گی، تحریک  کی حمایت پر آصف معراج صاحب سے کچھ نا زیبا الفاظ تو سن چکا ہوں لیکن ان دو ہزار سے زائد دوستوں میں کسی کی دیوار پر قاسمی صاحب، سلیم صافی اور نصرت جاوید کے لیے غیر اخلاقی کلمات اور گالیاں دیکھنے میں نہیں ایئں، ہاں البتہ کچھ لکھنے والوں کو ان کے قابل ضرور سمجھا گیا، جیسے نصرت جاوید ایک دن عمران خان پر بات کرتے فرماتے ہیں ۔۔ کھلآ ایہو جہے انقلابی تے۔۔۔۔۔۔اب بات یہ ہے کہ اگر آپ خود نان بائی یا بھانڈوں جیسی گفتگو فرمائیں گے تو آپ پر پھول تو نہیں برسائے جایں گے اور ویسے بھی بہت سے نوجوان اچھی اردو سے نا آشنا ہیں، اس لئے جہاں الفاظ ختم ہو جایئں تو بے چاری نئی نسل اور کیا کرے۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی بڑوں کو گالیاں دینا قابلِ ستائش نہیں۔
تیسری اور سب سے اہم بات کہ یہ بھی سوچنا ہو گا کہ گالیاں دینے والے کیا تحریک سے تعلق رکھنے والے ہیں، کیا ایسا تو نہیں کہ مخالف جماعتیں اس پروپیگنڈا کو مہمیز دے رہی ہوں،،،۔۔اس آخری بات میں تحریک کے لئے ہمدردی یا خوش گمانی کا عنصر بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کا سبب  وہ دو ہزار سے زائد لوگ بھی ہیں جو فیس بک پر میرے دوست ہیں اور جنہوں نے کسی لکھنے والے کو کبھی گالی نہیں لکھی۔۔،