ڈنمارک گرین کارڈ ہولڈرز کی آپ بیتی

ذہن پر خیالوں کے جمگھٹے میں کوئی صدا ایسی نہیں جسے آواز کہ سکوں، ہزاروں سوچیں ہیں اور ہزاروں لفظوں سے الجھتی چلی جا رہی ہیں۔ ، کبھی لگتا ہے وہی دیس جسے چھوڑ آئے ہیں دل ابھی تک وہیں بسا ھے، اور کبھی لگتا ہے کہ اپنا تو وہاں کوئی ہے ہی نہیں۔
حال کی بے حالی نے ایسی گرد اڑائی ہے کہ ساری سوچیں واہمے بن کہ رہ گئی ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان بدترین حالات میں گرتا چلا جا رہا ہے، اخبار اور ٹیلی ویژن کی ساری خبریں واہموں میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کرتیں، ابھی تو دل ہی نہیں کرتا کہ کسی پاکستانی چینل کو دیکھیں، کبھی کبھی تو جنگ کی ویب سائٹ کے نام سے بھی خوف آنے لگتا ہے۔
پاکستان سے احباب ہجرت کی فکر میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو ھم نے کیا وہی ٹھیک تھا، بہت سے لوگ جن جن کے حالات نے اجازت دی، یا کسی سکالرشپ کا سہارا ملا وطن سے باہر نکل آئے اور بہت سے فیصلوں کے منتظر ہیں۔ ان کی آنکھوں میں بھی وہی سپنے ہیں جو ہم نے سجائے تھے، جیسے کسی الف لیلوی داستان میں کوئی چراغ مل جایا کرتا ہے، یا کوئی جادو کی ہنڈیا، کوئی طلسماتی چھڑی یا کرشماتی زنبیل، غرضیکہ وہ ساری ان کہی خواہشیں، آسیں اور مرادیں جو راتوں کے آنگن میں خواب بن کر آتی ہیں، دن کے اجالوں میں تعبیر ہونے لگیں گی۔
پہلے پہل تو دوستوں کو سمجھایا کہ ہم تو چڑیا کے بچے کی طرح گھونسلے سے گرنے والے ننھے پرندوں کی طرح ہیں، ارے تم نہ گرنا، تم نہ آنا باہر، یہاں کوئی اپنا نہیں ہے، ۔۔مگر کوئی اس صدا پر کان نہیں دھرتا، ٹھیک ویسے ہی جیسے ہم نے سنی ان سنی کیں تھیں، مگر ایک سنہرے مستقبل کا خواب گدگداتا تھا، ، ایک یوٹوپیا تھا جس کا سحر کشاں کشاں ہمیں سکینڈے نیویا میں کھنچ لایا، جو ہر دلیل کا ایک ہی جواب دیتا تھا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔
اور آج وہ ساری روشن زندگی میرے سامنے پڑی ہے، اٹھارہ سالہ تعلیم اور چار سالہ آدھے ادھورے تجربے کے بعد لگتا ہے کہ سفر پھر صفر سے آغارکرنا ہے۔کسی نئی زبان کی ابجد سیکھنے کے لئے بچپن میں پلٹنا پڑتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کی کسی طور تو کما کھائے مچھندر،۔۔کاروانِ زندگی چلانے کے لئے کیا کیا جائے۔
ایک ایسے دیس میں جہاں زبان روزگار کے رستے کی رکاوٹ ہو، اور پہلے سے سوار مسافر اپنی محرومیوں کا تاوان بھی آپ سے چاہتے ہوں، وہاں زندگی مشکل ترین ہو جایا کرتی ہے، آج زندگی اپنی مشکل ترین شکل میں میرے سامنے کھڑی ہے، ایک بے زبان شخص کے لئے، ہوٹلوں کے برتن سنوارنا، دفتروں میں جھاڑو لگانا، یا ٹھٹرتی صبحوں میں گھر گھر اخبار پھینکنا، یا عارضی کام کی کسی کمپنی کے ساتھ دیہاڑی لگانا ہی ایسے کام ہیں جن سے روزمرہ کی ضروریات کمائی جا سکتی ہیں۔

میں لمحہ لمحہ  دور کہیں دور روشنی کی ایک نوید دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کی آئے گی اک روز وہ صبحِ امید اور شامِ آرزو میں ڈھل جائے گی۔۔۔۔
This pic is not from Denmark, just an imagination of homless pakistanies abroad