جی پچھانا

جی پچھانا
ٹیلی فون کا استعمال بڑھا تو اس فقرے کا استعمال بھی بڑھ گیا۔۔۔۔کہ جی پچھانا۔۔۔۔۔۔۔۔گلی کی نکڑ پر گھمسان کا رن تھا ۔۔۔۔دور کہیں سے ٹیلی فون کی گھنٹی کی آواز سنائی دی۔۔۔تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ یہ تو اپنے ہی فون کی آواز ہے۔۔۔۔۔شور بھرے اس ماحول میں فون کان سے لگایا تو کسی نے بے تکلفی سے کہا ۔۔۔جی پچھانا۔۔۔۔۔۔اگر آپ خدانخواستہ اس عزیز از جان دوست کو پہچاننے میں کامیاب ہو جائیں تو آپ کی دوستی کو سند مل جائے وگرنہ بے تکلف دوست کسی ایواڑ سے نواز دیں گے۔۔۔۔۔اور تو اور بہت سے پڑھے لکھے احباب بے تکلفی کے اظہار کے لئے ۔۔۔۔جی پچھانا کا کلیہ استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کہ آپ کے مخاطب نے آپ کو نہیں پہچانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر شور بے پناہ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ہم کئی دوستوں کی محبت بھری آوازں کو پہچان نہیں پائے اور ان کے محبت بھر ے گلے بھی سننے کو ملے۔۔۔۔۔۔۔مگر اس شرمندگی میں قصور سارا ہمار ا نہیں۔۔۔۔۔سب سے بڑھ کر اس موبائل کمپنی کا جس کے ٹوٹے پھوٹے سگنل پورا پاکستان ادھورے ہی رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور دوسرا بڑا قصور اس موقعہ کا جس میں ہم ہوتے ہیں۔۔۔۔مثال کے طور پرآپ گاڑی چلا ہے ہیں اور کسی خطرناک موڑ، چوک یا چوراہے پر پہنچے ہیں۔۔۔۔فون بجتا ہے اور آواز آتی ہے ۔۔۔۔۔جی پچھانا ۔۔۔۔تو دل چاہتا ہے کہ ایسے بندے کو ۔۔۔۔پا لمیاں لوے۔۔۔۔۔۔ویسے تو ایسی جگہوں پر گاڑی چلاتے ہوئے فون کا ستعمال ہے ہی نامناسب ۔۔۔۔۔۔۔ایسے بے شمار مواقع آتے ہیں جہاں دوستوں کی یہ حرکت غیر مناسب معلوم ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ٹیلی فون کا استعمال اب اسقدر عام ہو چکا کہ ہر کس وناکس کی پہنچ میں ہے ۔۔۔۔اس لئے ضروری ہے کہ اس کے ادب آداب کو بھی تھوڑی بہت اہمیت دی جائے۔۔۔۔۔کیا ہی اچھا ہو کہ فون کرنے والا اور سننے والا سلام کے بعد اپنے نام دہرا دیں تاکہ تسلی ہو جائے کہ مخاطب کون ہے اور بات کون کر رہا ہے ۔۔۔اس بات پر عمل کر کے بہت سے دیگر قباحتوں سے بھی بچا جا سکتا ہے ۔۔۔جیسے گذشتہ دنوں موبی لنک کے کسی ٹاور کی مہربانی سے کال کسی اور نمبر پر مل جاتی تھی ۔۔۔۔اور سننے والا اپنی کہانی کہہ چکا ہوتا تو خبر ہوتی کہ سننے والا تو وہ ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔