پروردگار سے دوستی ۔۔۔۔۔۔۔

 ہاتھ سے کمانے والا پروردگار کا دوست ہے یہ سبق ابھی ہمارا پختہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔نجانے کیوں پاکستان میں مزدوروں کو ہنر مند نہیں سمجھا جاتا، روزمرہ کے بے شمار پیشے عزت اور قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے، موچی، بڑھی، لوہار، جولاہا، حجام جس نے جو پیشہ اختیار کیا اس کی ذات پات ، قبیلہ بھی وہی ٹھرا، کیا ایسا ممکن ہے کہ ہمارے معاشرے میں کوئی خان زادہ، سید زادہ یا کوئی کسی خاص قبیلے برادری سے تعلق رکھنے والا مزدوری سے متعلق ان کاموں سے وابستہ ہو سکے جن کا ٹایٹل موچی، لوہار، جولاہا وغیرہ ہے۔۔۔۔
کافی سال پہلے ایک سکول کے دوست کے ریفرنس سے ایک لڑکا ڈرائیور بھرتی ہونے کے لیے میرے پاس لاہور آیا، اس کا تعلق پاکستان کی ایک نامور برادری سے تھا، میں نے کمپنی کے چیف صاحب سے بات کر رکھی تھی جن کو ایک ڈرئیور کی ضرورت تھی۔۔۔۔جس دن تک وہ لڑکا کام لینے کے لئے آیا اس دن تک ڈرئیور رکھا جا چکا تھا۔۔۔۔لیکن پھر بھی ہمارے چیف صاحب نے اس لڑکے کو بلایا اور پوچھا کہ ڈرئیور کی جگہ پوری ہوئی ، اب ہمارے پاس ایک ویٹر کی جگہ خالی ہے جس میں تمہیں دفتر کے لوگوں کو چائے وغیرہ دینا، ٹیبل صاف کرنا اور دیگر اس طرح کے کام شامل ہیں اور جونہی کوئی ڈرائیور کی سیٹ خالی ہو گی ہم اس کے تمہیں منتخب کر لیں گے ۔۔۔لیکن باوجود اس کے کہ اس کو کام کی ضروت تھی لیکن وہ ویٹر بننے پر رضا مند نہ ہوا اس کا خیال تھا کہ ڈرائیور بننا بر ا نہیں لیکن ویٹر بننا یا سرونٹ بننا اس کے لئے معاشرتی طور پر مناسب نہیں۔
مہذب معاشروں کو شاید اس لئے بھی مہذب کہتے ہیں کہ انہوں نے پیشے کی بنیاد پر عزت اور ذلت کا معیا ر استوار نہیں کیا۔۔یہاں سبھی برابر ہیں، خاکروب سے لیکر صدر تک محمود و ایاز والی طلسماتی دنیا کے باشندے لگتے ہیں، پچھلے دنوں امریکی صدر اوباما کی ایک تصویر جاری ہوئی تھی جس میں وہ راہداری سے گذرتے ہوئے صفائی کا کام کرنے والے سے ہاتھ ملاتا ہوا گذر رہا تھا۔۔۔۔۔ایسا حقیقت ہیں یہاں پر موجود ہے لوگ کسی بھی پیشے کو برا نہیں سمجھتے۔۔۔آپ کسی بھی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں آپ کا خاندان آپ کے پیشے سے منسوب نہیں
شاید اس برابری کی ایک وجہ معاشی برابری بھی ہے ، ہاتھ سے کام کرنے والے پیشہ جات میں فی گھنٹہ تنخواہ کا فرق بہت زیادہ نہیں، ایک صفائی کرنے والا ایک دفتر میں کلرک گھنٹوں کے حساب سے تقریبا ایک سی تنخواہ پاتے ہیں، لیکن پھر بھی جہاں تنخواہ کا فرق زیادہ ہے وہاں بھی لوگوں میں کام کی بنیاد پر نفرت نہ ہونے کے برابر ہے۔
بستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے۔۔۔۔لیکن ہم اپنی نئی بستی کی بنیادوں اس سوچ کو ضرور شامل کریں گے جس میں کام اور پیشے کی بنیاد پر طبقاتی تقسیم موجود نہ ہو ۔۔۔
لیکن شاید ابھی ہمیں بحیثیت قوم اس سچائی کو سمجھنے میں کافی دیر لگے گی۔۔۔جو پاکستانی بہت سالوں سے یورپ اور امریکہ کے رنگوں میں رنگے ہوئے ہیں ان کے دل سے ابھی تک اس تقسیم کا لطف نہیں گیا۔۔۔۔جہاں کہیں سال میں ایک آدھ دفعہ پاکستان جا کر اس ذائقے سے لطف اندوز ہو سکتے ہوں، حسب توفیق اپنا حق سمجھتے ہیں۔، خیر اس ماحول میں کچھ چیزیں تو مطابقت کی نذر ہو جاتی ہیں، لیکن اس تحریک کا اثر اس ماحول میں رہتے ہوئے کچھ یوں ہوتا کہ لوگ اپنے پیشے کے متعلق بتانے سے کتراتے ہیں، اگر کسی پیزا شاپ کے مالک سے عین اس وقت ملاقات ہو جائے جب اس کے ایپرن پر ایک اور پیزا بن چکا ہو تو وہ کہے گا یار آج ورکر چھٹی پر تھا۔۔۔آج خود کام کرنا پڑا، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
یعنی مختلف حیلے بہانوں سے اپنے کام کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں تاکہ ہماری سماجی حیثیت میں کوئی فرق نہ آئے۔۔۔۔
ہم نے نام نہاد عزت کا جو معیار بنا رکھا ہے اس میں بہتری کی خوب گنجائش ہے۔۔۔۔ہم اپنے کام کو عبادت سمجھ کر اور اپنے پروردگار کے دوستی کے عندیے کو اپنے گلے کا ہار بنا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔