جامعہ زرعیہ ہاسٹل۔۔۔کوئی ہے ؟؟؟؟ْ

کمرے کا داخلی دروازہ

ابھی کل ہی مادر علمی جامعہ زرعیہ فیصل آباد سے لو ٹا ہوں۔۔۔وہ ایک کمرہ جس کا نمبر بھی ایک ڈی سرسید ہال ہے۔۔۔اس کی تصویر ابھی تک آنکھوں میں گھومے جا رہی ہے۔۔۔۔وہ کمرہ جس کی دیوایں ہڑپہ کے کھنڈرات سے بر آمد شدہ کسی سیلن زدہ تصویر کا حصہ لگ رہی تھیں۔۔قریبا نو چارپائیاں، ایک آدھ میز اور آثار سے لگتا تھا کہ یہاں کے مکین صفائی ستھرائی نام کی چیزوں سے نا آشنا ہوں۔۔۔وہ کمرہ جہاں دوہزار میں تین لوگوں نے چھو تھا رومیٹ آنے نہ دیا تھا۔۔۔۔ہمایوں کھوکھر، عمران، اور رانا شہزاد اس کمرے کے مالک تھے اور کمرے کے تین مختلف کونے ان کی اجارہ داری ہوا کرتے تھے۔۔۔۔دوہزار دو کے بعد اس کمرے میں عامر صاحب جو اب ایچ سی کے منتخب شدہ سپروائزر بھی ہو چکے ہیں وہ شفٹ ہوئےتو پرائویسی والا حصہ ان کے قبضے میں رہا ۔۔جہاں وہ اپنے کمپیوٹر کی روشنی اور آواز سے لوگوں کو فیض یاب کرتے رہے۔۔۔اس دور میں ایک ڈی ایک انتہائی نفیس اورصاف ستھرا کمرہ تھا۔۔۔کمرے کی موجودہ حالت سے لگتا ہے کہ یہاں کسی فاتح فوج کا بسیرا رہا ہوَ۔۔۔جو جوش جذبات میں پرانے بوٹ ، کپڑے۔۔۔اٹھانا بھول گئی ہو۔۔۔لیکن ماجرہ یہ ہے کہ اب اسی کمرے میں جہاں تین سٹوڈنٹ چھوتھا برداشت نہ کرتے ہیں۔۔۔نو طالب علم رہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔نو طالب علم۔۔۔میں تو جیسے حیران ہی رہ گیا۔۔۔۔۔۔جونئیر لڑکے میری حیرانی پر حیران تھے۔۔۔انہوں نے اگلہ دھماکہ کیا۔۔۔یہ نو صرف اس لئے ہیں کہ ہم ایم ایس سی کے طالب علم ہی وگرنہ جونئیر کمروں میں اب بارہ بارہ طالب علم رہ رہے ہیں۔۔۔۔۔میں ان بارہ بارہ طالب علموں کے استعمال میں ہونے والے کمروں کے نقشے کا اندازہ اس نو طالب علم والے کمرے سے کر سکتا تھا۔۔۔۔وہ حصہ جہاں صرف ایک چارپائی ہوتی تھی وہاں تین چارپائیاں بچھی تھیں۔۔۔کمرے میں چلنے پھرنے کی مناسب جگہ بھی نہیں تھی۔۔۔کتابیں، کپڑے یہ کسیے رکھتے ہوں اس کا کوئی اندازہ مجھے نہیں تھا۔۔۔بنیادی طور پر ان میں چار الماری نما خانے ہوتے تھے ۔۔۔اور اب یہ کیسے بارہ لوگوں میں تقسیم ہوتے ہوں گے۔۔۔خدا ہی بہتر جانتا ہے۔۔۔۔۔
جامعہ زرعیہ میں طالب علموں کے ساتھ یہ برتاو انتہائی غیر انسانی ہے۔۔۔ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ ہمارے بعد کے تیرہ برسوں میں ان بچوں کے معیار زندگی میں کوئی بہتری آتی لیکن یہ تو بھٹے کے مزدوروں سے بھی بدترین زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔۔۔باتھ روم کے نل میں نمکین پانی کھیوڑہ کے قریب سے آتا محسوس ہوتا تھا۔۔۔اور پینے کا پانی غلطی سے پی بیٹھا تو اس نے پیٹ پر ایسا اثر چھوڑا کہ جب تک جسم سے نکل نہ گیا۔۔پیٹ سے عجیب و غریب آوازیں دیتا رہا۔۔۔۔۔۔
پرسوں سے ایک تکلیف میں جیتا ہوں کہ یہ مادر علمی اپنے بچوں سے کیسا سلوک کر رہی ہے۔۔۔کیا رانا اقرار واقعتا ان معاملات سے ناواقف ہیں۔۔۔اس بارے یار لوگوں نے دو قسم کی تھیوریز پیش کی ہیں ۔۔ایک یہ کہ وائس چانسلر کے اردگرد خوشامدی قسم کے لوگ موجود ہیں جنہوں نے سب اچھا ہے کی گردانوں میں ان کو بھلا رکھا ہے کہ ان کاموں کی چنداں ضرورت نہیں۔۔۔۔چھ سات سال پہلے بھی میں نے اس معاملے پر توجہ دلوائی تھی تو ہال وارڈن ویل ڈن کے نام سے کسی نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ یہ ہاسٹل ابھی پچاس سال اور بڑی آسانی سے لوگوں کے ضروریات پوری کریں گے۔
دوسری تھیوری یہ کہتی ہے کہ مینجمنٹ کا طریقہ کار ہے اس میں طلبہ اپنے مسائل میں اس قدر الجھے رہتے ہیں کہ ان کو انتظامیہ کے خلاف سوچنے یا بات کرنے کی کوئی فرصت نہ رہے۔۔۔۔۔
ویسے بھی انتظامیہ کے فیصلوں سے طالب علموں کو جس طرح سے ڈرایا گیا ہے۔۔۔۔ اس سےصحت مند تنقید کا ماحول دم توڑ چکا ہے۔۔۔۔۔
کوئی ہے جو میرے معصوم طالب علموں کی حالت زار پر ایک لمحے کے لئے سوچے۔۔۔۔۔میں محترم وائس چانسلر صاحب سے درخواست گذار ہوں کہ کبھی کسی شام اچانک ایک دو ہاسٹلز کا معاینہ فرمائیں۔۔۔۔اور ایک نظر دیکھیں تو سہی کہ اس گھٹن میں جینا اور پڑھنا کس قدر مشکل ہو چکا ہے ۔۔۔۔
اتنے لوگوں میں رہ کر سبق یاد کرنا، تحقیق سے وابستہ ہونا، سونا، جاگنا، صفائی ستھرائی۔۔۔۔میرا خیال ہے کچھ بھی ممکن نہیں۔۔۔۔۔




ابھی تھوڑی دیر پہلے اہلیان ایک ڈی نے صفائی ستھرائی کے بعد اسی کمرے کی چند تصاویر بھیجی ہیں۔۔۔۔ٹوٹی ہوئی چارپائیوں پر سفید اجلی چادریں ڈال دینے سے یا نو چارپائیوں کی ترتیب سیدھی کر دینے سے وہی کوشش کی ہے جسے گلستاں رکھ لیا میں نے اپنے ویرانے کا نام ۔۔۔۔ہاں ان دیوراوں پر اچھا سا رنگ بھی کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔فرش پر بکھری راکھ کو بھی اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔۔۔صبح اٹھ کر ایک چارپائی کے نیچے دوسری چارپائی گھسا کر کچھ چلنے پھرنے کی جگہ بھی بنائی جا سکتی ہے۔۔۔لیکن جو میں آپ کو بتانا چاہ رہا ہوں آپ کو اس راہِ رسم شاہبازی کی سمجھ نہیں آسکتی۔۔
ایک ڈی صفائی کے بعد