خواب لے لو خواب

خواب لے لو خواب
وہ خواب بیچنے آیا ہے۔۔۔ایک سنہرے پاکستان کا خواب ، ایک ایسے دیس کا خواب جس میں انصاف ہو، کہ شودرو برہمن کی تفریق کو ذرا کم کیا جا سکے۔۔۔۔۔وہ امن کا خواب لیکر آیا کہ اس ملک کے قصور و بے قصور کسی عدالت کے فیصلے کی بٖغیر کسی ڈرون سے نہ آڑائے جائیں۔۔۔۔۔۔۔
سولہ سالوں سے اس ملک کے گلی کوچے گواہ ہیں کہ اس نے ہر ناانصافی پر شور مچایا ہے ۔۔۔اور آج جب اس کی آواز کو کچھ کچھ سنا جانے لگا ہے تو ہر طرف سے طاقت کے نمائندے اس ہجوم کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔۔۔۔کسی اس کو اس وجہ سے چھوڑنے کی تلقین کرتا ہے کہ اس نے ایسی عورت سے شادی کی جو پہلے مسلمان نہ تھی۔۔۔کسی کو لگتا ہے کہ وہ اس لئے قابل سنگ زنی کہ اس کے ساتھ کچھ لوگ ایسے آ گئے ہیں جو اس کو بھٹکا دیں گے۔۔۔کچھ کو اس لئے بھی اس خار ہے کہ اس کی حمایت کسی ایسے بندے نے کر دی ہے کہ جس کے اسلامی عقائد اس کے مطابق نہیں ہے۔۔۔۔کچھ کو لگتا ہے اس کے پاس نعروں کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔

جس شخص نے بھی کبھی زندگی میں چار لوگوں کو جمع کیا ہو ، کسی تنظیم سے وابستہ رہا ہو، کسی دفتر میں دس بارہ بندوں سے مل کے کام کیا ہو ۔۔۔وہ یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ بھی تنظیم کے کیا مسائل ہو سکتے ہیں۔۔۔۔کچھ مفاد پرست بھی بہتی گنگا کے رخ پر اس کے ساتھ چلے ہیں۔۔۔کسی کو کچھ مل جائے گا اور کوئی خالی ہاتھ رہ جائے گا ، جن کو ملے گا لوگ ان پر انگلیاں اٹھائیں گے اور جس کو کچھ نہیں ملے گا وہ ان کو برا بھلا کہے گا۔۔۔ایسا تو ہو گا۔۔۔۔۔۔
صاحب تبدیلی
آنا بہت ضروری ہے۔۔۔۔۔وہ کب آئے گی اس کو ہم نے طے کرنا ہے ۔۔۔۔آنے والا وقت بتائے گا کہ خواب بیچنے والوں کے ہاتھ کیا آتا اور طاقت کے میدان کے پرانے شہسوار اپنی مہارت کے بل پر ہم ایسے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی مرضی کا نتیجہ حاصل کر لیں گے۔۔۔۔۔