تبدیلی ہم سے ۔۔۔۔۔۔۔

ہاں یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔۔۔اپنے لہو کی قندیلوں سے، اپنی فکر کے اجالے سے، ایماں کی حرارت سے اور احساس محرومی سے کشید شدہ طاقت سے ۔۔۔۔تبدیلی کا سورج طلوع ہو گا۔۔۔اور حق آگیا اور باطل مٹ گیا کا نعرہ بلند ہو گا۔۔۔۔سرداروں کا غرور خاک میں مل جائے گا، اور جو طاقتور کے ساتھی ہیں اپنے قبلے اور قبیلے تبدیل کر لیں گے۔۔۔۔جو آج ہر دلیل کے پار پرے یہی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طاقت ور کا ساتھ دینے میں ہی توازن ہے۔۔۔بھلا گاڑی کا نیا ڈرئیور گاڑی کیسے چلا سکتا ہے ، وہ تو کسی اندھی کھائی میں جا گرے گا، خود بھی مرے گا اور آ پ کو بھی مارے گا۔۔۔۔ایک ان دیکھے راستے کا ڈر ، مسافرکے سر پر ہمیشہ خوف کی تلوار بنا رہتا ہے اور یہی اس پرانے اندھے ڈرئیوروں کی چال ہے۔۔۔۔۔
ہاں اب بھی کچھ لوگوں کی سوچ یرغمال ہے ، کچھ کے مفادات وابستہ ہیں، کچھ کی تنخواہ کا معاملہ ہے ، اور کچھ
مزاجا ہر تبدیلی کے خلاف ہیں۔۔۔
لیکن اب ہوا چلی ہے ، جسے پرواز کی آ رزو ہو اسے نوید ہے اب اڑنا آسان ہو گا۔۔۔پھر جتنی دیر سے اٹھو گے اتنی بڑی قربانی درکار ہو گی۔۔۔۔
تبدیلی کا ماحول ہے، ہم نے طے کرنا ہے کہ ہمارے آنے والے دنوں کی سمت کیا ہو گی۔۔۔کیا اپنی انا کے زعم میں ہم لاکھوں بے کسوں کے مستقبل کا سودا بھی کر چھوڑیں گے۔۔۔وہ جو آپ کی رائے سے اپنی رائے تراشتے ہیں۔۔۔ان کو سیدھا راستہ دکھانا آپ کی ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔