میزبان مہمان ۔ ڈاکٹر انجم سہیل کی چند یادیں۔۔۔۔

میزبان پروگرام ڈاکٹر انجم سہیل ۔۔۔۔مہمان تھے اور سنا ہے کہ رخصت ہو گئے۔۔اب جامعہ کے کسی آنے والے سفر میں ان سے ملاقات میسر نہ ہو سکے گی
۔۔۔۔جتنی اطلاعات ان کے چلے جانے کی گردش میں ہیں ان سے سے تو یہی باور کیا جاسکتا ہے کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔۔۔
جامعہ زرعیہ میں گذارے چھ سالوں میں کسی ایک دن بھی ان کی کسی کلاس کا طالب علم نہیں رہا ۔۔۔لیکن جامعہ زرعیہ میں گذرے پہلے مہینوں سے جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والے سارے سالوں میں کسی نہ کسی صورت ان سے رابطہ رہا۔۔۔۔ابھی اسی سال کے اوائل میں ان سے ملاقات ہوئی تھی ابھی کچھ انیس گھنٹے پہلے ان کا فیس بک کا سٹیٹس ابھی تک سامنے ہے۔۔۔۔
ابتدائی سالوں میں وہ ہمارے ٹیوٹوریل گروپ سے منسلک تھے۔۔۔بعد میں جامعہ میں ہونے والی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے توسط سے وہ روزمرہ کا حصہ رہے۔۔۔۔
سٹیج پر آنا اور آکر کہنا ۔۔۔میں ڈاکٹر انجم سہیل میزبان پروگرام جیسے ان کا بنچ مارک ہو ۔۔۔حتی کہ ایک نجی محفل میں ملک اصغر صاحب نے کچھ اس انداز سے کہا کہ میزبان پروگرام ڈاکٹر انجم سہیل صاحب سے پوچھ لیں تو محفل کشت زعفران بن گئی۔۔۔۔جامعہ زرعیہ سے باہردوتین پروگرامز میں وہ ہمارے ساتھ لاہور تشریف لے گئے۔۔۔اس دوران ان کی نجی زندگی کی ایک جھلک کو بھی دیکھا۔۔۔ان کی پرانے وقتوں کی سوزوکی میں بیٹھ کر ہم قائد اعظم کوئیز پی ٹی وی کے پروگرام میں شریک ہوئے۔۔۔راستے میں شیخوپورہ میں ان کے بھائی کے گھر قیام اور ان کی والدہ سے بھی ملاقات ہوئی۔۔۔۔سارے راستے کشور کا ایک گانا بار بار آتا اور انجم صاحب اس پر لہک جاتے۔۔۔
گھنگھرو کی طرح بجتا ہی رہا ہوں میں
کبھی اس پگ میں کبھی اس پگ میں۔۔۔۔۔۔
اور پھر رات کو بارش ہوئی اور صبح انہوں کہا کہ چنگ چی پر پی ٹی وی چلتے ہیں۔۔۔۔۔ہمارا خیال تھا کہ جیسا بھی ہے گاڑی پر چلنا چاہیے۔۔۔۔
اور میری پسپائی کا وہ واقعہ جو ایف سی کالج لاہور میں پیش آیا وہ تو وہ آنے والے سبھی لوگوں کو مزے لے کر سناتے۔۔۔جب میں پنجابی ٹاکرے میں بھول گیا تھا۔۔۔۔
رکڑ دے وچکارے بابا
رجھا کمے کارے بابا
نا تھکے نہ ہارے بابا
ویلے نوں للکارے بابا
دھپے بھیڈاں چارے بابا

۔۔۔۔میں نے ایک دفعہ کہا رکڑ دے وچکارے بابا۔۔۔۔پھر کہا ۔۔۔اور پھر کہا کہ دھپے بھیڈاں چارے بابا۔۔۔۔۔۔اور جو بھی تقریر تھی اس کو الٹا سیدھا بول آیا لیکن سٹیج پر ٹکا رہا۔۔۔میری ہمت کی وہ داد دیتے تھے اور لوگوں کو تحریک دیتے تھے۔۔۔۔کہ یہ وہاں دس منٹ پر ایک ہی فقرہ کہتا رہا کہ رکڑ دے وچکارے بابا۔۔۔۔رکڑ دے وچکارے بابا۔۔۔۔۔۔۔۔رکڑ دے وچکارے بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن سٹیج سے نہیں اترا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر جب میں نے جامعہ زرعیہ میں جب کوئیز کلب کا آغاز کیا تو ان پہلے اور آخری لوگوں میں سے تھے جو یہ نہیں بھولے کہ کوئیز کلب میرا لگایا ہوا پودا ہے۔۔۔۔
حالانکہ بعد کے حالات میں جیسا کہ پاکستان میں ہوا کرتا ہے۔۔۔چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری قسم کے درباری ہم ایسے محنت کشوں کے ناموں کو دیواروں سے کھرچتے رہتے ہیں۔۔۔۔اور مجھے خود کو یہ بھولتا جاتا تھا ہاں میں نے جامعہ زرعیہ کو یہ تحفہ دیا تھا۔۔۔۔وہ اس بات کو یاد رکھتے تھے بلکہ لوگوں کو بھی یاد دلاتے تھے۔۔۔
جامعہ زرعیہ کے چھ سالوں میں درجنوں پروگراموں میں ان سے پالا پڑا۔۔۔ان کو خوش رنگ اور کھردرے ہر قسم کے روپ دیکھے اور کئی دفعہ اختلافات اور نقظہ نظر کے فرق میں ہم ان سے ناراض بھی رہے لیکن ان کی مسکراہٹ، برداشت کو ہمیشہ پیہم پایا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک خوبصورت انسان تھے۔۔۔ان کے اندر ایک طالب علم کا سا اضطراب، اور بچپنے کی سی سادگی تھی ۔۔۔۔جو جوانی کے اندھے دنوں میں ہماری آنکھوں سے اوجھل تھی۔۔۔،،۔۔۔ہم نے ان کا ذرا خیال نہیں رکھا۔۔۔۔ایسے جیسے لگتا تھا کہ وہ ہمیشہ ادھر ہی رہیں گے۔۔۔۔۔اور آج اچانک ان کے رخصت ہونے کی خبر ملی تو دل میں ملال ہے۔۔بہت گہرا دکھ۔۔۔جیسا بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔خدا تعالی انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں۔۔۔۔