جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن۔۔۔۔۔

اب کہ جب فراغت نصیب ہو گی سب سے پہلے اپنے بڑھتے ہوئے وزن پر توجہ دوں گا۔۔۔بس تھوڑے دنوں میں باقاعدہ ورزش شروع کر دوں گا۔۔۔۔۔ایسا ایک دفعہ نہیں ہوا۔۔زندگی کے ان سالوں میں درجنوں مواقع آئے جب خود سے کئے ہوئے وعدے محبوب کے وعدوں کی طرح کبھی پورے نہ ہوئے۔۔۔مجھے یاد ہے اوائل ایف ایس سی اور اوائل یونیورسٹی کے دن ۔۔۔۔جب دودن کی چھٹی کے لئے دو تین کتابیں ساتھ اٹھا کر گھر لے آتے تھے کہ یہاں تو موقع نہیں ملا گھر جا کر ضرور ان کو پڑھیں گے لیکن بہت سال اس وزن کو اٹھاتے رہے تو یہ سیکھا کہ ایسا ہو نہیں پائے گا۔۔۔سو ایم ایس کے اختتام تک جب چھٹی پر گھر آتے تو کسی کتاب کے ساتھ لانے کے خیال تک کو جھٹک دیتے تھے۔۔۔۔۔

کوئی چھ ہفتے پہلے ایک آٹھ ہفتے کے آن لائن کورس میں داخلہ لیا تھا ، سوچا تھا کہ پاکستان جا رہا ہوں وہاں کافی وقت اور فراغت میسر ہو گی سو اس کی اساینمنٹ وغیرہ کر ہی لوں گا۔۔۔۔اب ہر ہفتے اس کورس کی طرف سے ایک ای میل آ جاتی ہے کہ آپ کورس کے فلاں ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں۔۔۔۔میں بس اتنا کرتا ہوں کہ اس ای میل کو ڈیلیٹ نہیں کرتا۔۔۔ایک موہوم امید کے سہارے کے کسی روز یہ سارے لیکچر ایک ہی دن میں ختم کردوں گا۔۔۔
مجھے لگتا کہ کتابوں اور ورزش سے جی چرانے کا بچپنا ابھی تک باقی ہے۔۔۔۔اور سچ پوچھئے کہ مجھے ایک قسم کی خوشی سی محسوس ہوئی ۔۔۔۔جیسے بچپن میں کسی بیری کے بیر چرا کر کھانے کی ہوتی تھی۔۔۔ایک نوجوانی کا احساس سا ہوا ۔۔۔۔۔کہ عمر کے اس حصے میں بھی یہ عیاشی میسر ہے کہ کوئی کام چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔ویسے بھی کم ہی لوگ ہوں جو پڑھائی اور خصوصا نصابی قسم کی پڑھائی سے جی چرانا نہ چاہتے ہوں گے۔۔۔۔
لیکن پڑھائی سے ہٹ کر جی چرانا۔۔جیسے گھر کے سودا سلف کی خریداری میں کوتاہی، اپنے کپڑے استری کرنے کا جھنجھٹ، رشتہ داروں ، گھر والوں کے فرمائشی پروگرامز میں کوتاہی جیسے وبائی امراض بھی وقتا فوقتا فدوی کو لاحق رہتے ہیں۔۔۔۔۔
ابھی یہ سوچ رہا ہوں کہ اس آرٹیکل کے توسط جو اخلاقی سبق آپ تک پہنچانا مقصود تھا اس کو بھی کل پر ہی اٹھا رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔فراغت نصیب ہو گی تو لکھ بھی لیں گے جناب۔۔۔۔