اعتبار کا قاتل معاشرہ ۔۔۔۔۔۔۔

اسے کچھ ادھار چاہیے تھا، پرانا جاننے والا تھا۔۔۔بہت سال ایک دوسرے کے ہم مکتب بھی رہے تھے، رقم کچھ زیادہ تھی، دینے والے کی استطاعت سے بھی کچھ زیادہ، اس لئے تو وہ سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔تعلق اتنا پرانا تھا کہ انکار گوارا نہ تھا، ہاں کہنے کی بھی ہمت نہ تھی، مانگنے والے نے آخری پتہ پھینکا۔۔۔میری ضرورت اشد ہے، میری مدد کرو۔۔۔میں دو تین ماہ میں لو ٹا دوں گا ، خواہ مجھے اپنی بیوی کا زیور ہی کیوں نہ بیچنا پڑے۔۔۔دینے والے نے ساری جیب جھاڑ دی، کسی ایک آدھ قریبی کی بھی کچھ رقم ملا کر ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دی۔۔۔۔لیکن اب سال گذر گیا۔۔۔چھپن چھپائی کا کھیل چل رہا ہے، لینے والے کے فون اور رابطے ادھورے سے ہیں، کچھ وعدہ فردا کی باز گشت واپس آتی ہے۔۔۔لیکن ادھار کی رقم کا دور دور تک نشان نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے یورپ کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ لینا تھا۔۔۔اور ایک ضامن درکار تھا کہ یہ پڑھے گا اور ضامن اس کے اخراجات اٹھائے گا۔۔بتایا یہ گیا تھا کہ ضامن صرف کاغذات کا پیٹ بھرنے کے لئے ہوگا۔۔۔اخراجات وہ خود اپنے کرے گا۔۔۔پھر اس کا داخلہ ہوا، کچھ عرصے بعد ضامن کو دوہزار پاونڈ ادا کرنے کا ایک خط موصول ہوا، کیونکہ جس کی ضمانت دی گئی تھی وہ کلاس چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اور اس کہیں نام و نشان تک نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سویڈن کی ایک یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا تھا، اسے اپنے کسی بھائی کی بنک گارنٹی کے لئے کافی رقم کی ضرورت تھی، اپنے ہم مکتب پاکستانیوں سے اس نے مدد مانگی ، سب نے جتنی جتنی رقم اکاونٹ میں تھی اس کو ٹرانسفر کردی۔۔۔۔رقم لینے والے نے دو تین دن بعد رقم لوٹانے کا وعدہ کیا تھا۔۔۔ایک ہفتے بعد اس نے سب دوستوں سے کہا وہ رقم ویزہ کے لئے کسی ایجنٹ کو دی گئی تھی اور ایجنٹ بھاگ گیا ہے، اس لئے اب اسے معاف کردیا جائے۔۔۔۔۔
ایسے واقعات میں نام اور مقام تبدیل ہوتے ہیں، تھوڑا بہت متن کا فرق نکلتا ہے۔۔۔اور کسی نہ کسی انداز میں آپ میں ہر کسی کے ساتھ ایسے واقعات پیش آئے ہوتے ہیں، ہماری پاکستانی سوسائٹی میں یہ وبا اپنے عروج پر ہے۔۔۔لوگ ادھار مانگ کر بھول جاتے ہیں، اور یاد کروانے پر آپ کو شرمندہ کر دیتے ہیں، ۔۔ادھار مانگ کر جینا کئی لوگوں کا لائف سٹائل ٹھہر گیا ہے۔۔۔آپ غور کیجئے لوگ اچانک بڑی محبت سے ملتے ہیں اور دوسرے تیسرے روز آپ سے ادھار مانگ لیتے ہیں۔۔ادھار دینے سے پہلےکی واقفیت اور بعد کی واقفیت کا رنگ بھی ان سمندروں کی طرح ہوتا ہے جو ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دو رنگ رکھتے ہیں اور ملتے نہیں۔۔۔۔

ابھی آجکل ایک دوست کو ضامن کی تلاش ہے، بیلجئم کی یہ یونیورسٹی بغیر ضامن داخلہ دینے پر تیار نہیں، میں اس کے ساتھ بیلجیم کی ایمبیسی گیا، لیکن میرے حالات ایمبیسی کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتے ۔۔۔کوئی درجن بھر جاننے والوں کو مدد کی درخواست کر چکا ہوں، کئی ایک نے کہانی سننے کے بعد فون سننا ہی بند کردئے، کئی ایک نے ضامن کی ذمہ داریوں کی ای میل مانگی اور اس کے بعد سے ان سے رابطہ نہ ہوسکا، کچھ دوستوں نے اوپر بیان کی گئی کہانیوں سے ملتی جلتی کہانیاں بیان کیں اور معذرت چاہی۔۔۔۔
سچ پوچھیئے تو ایسی ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، کہ کسی کی مدد کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچنا پڑتا ہے کہ یہ مدد کل اپنے گلے تو نہیں پڑ جائے گی؟؟؟
مجھے پتہ نہیں کہ اور دوسری معاشرتوں میں مدد کرنے والوں کا حشر کیا ہوتا ہے ، لیکن جو حال ہم پاکستانی ایک دوسرے کا کر چھوڑتے ہیں، اس سے خدا کی پناہ ہے بس۔۔۔۔۔
یہ اعتبار اور اعتماد کے رشتے ہمارے اسلامی معاشرے کا طرہ امتیاز ہیں، ایفائے عہد کی مثالوں سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے، تین دن ایک جگہ رہ کر کسی کا انتظار کرنے والی ہستی کی کہانی کس نہیں پڑھ رکھی، اور ہمارا تو یہ وطیرہ ٹھہرہ کہ
جانتے تھے دونوں ہی ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
اس نے بھی وعدہ کرلیا، میں نے بھی وعدہ کر لیا
۔۔۔لوگ کہتے ہیں میں پانچ منٹ میں آیا اور پانچ گھنٹوں میں بھی نہیں آتے۔۔۔جھوٹ اور وعدہ شکنی ہماری قومی معاشرت کا حصہ بن چکی ہے۔۔۔بات قسموں سے بہت آگے نکل چکی ہے۔۔اعتبار کی اتنی مٹی پلید ہو چکی ہے کہ اعتبار آتے آتے بھی نہیں آتا۔۔۔۔