نیند سے باتیں۔۔۔

جب بھی صبح جلدی جاگنا ہو، رات کو نیند نہیں آتی، اور ایسی ہی ایک رات میں ابھی تک جاگ رہا ہوں، چار گھنٹے پہلے سب بتیاں بجھا کر بستر میں لیٹ گیا، کچھ آدھے گھنٹے کی کروٹوں کے بعد اٹھ بیٹھا، یوٹیوب سے کچھ ویڈیوز دیکھیں، جنگ کا اخبار پڑھا، ایک آدھ کالم پڑھا، فیس بک کے ایک د و سٹیس اپ ڈیٹ کئے، کچھ پرانے پیغامات کے جواب تحریر کئے، کچھ نئے دوستوں کو ایڈ کیا، الٹرنیٹ میڈیسنز کے موضوع پر کچھ خفیہ دوائیاں ڈھونڈھنے کی کوشش کی، ایک دوست کے بلاگ کی تلاشی لی، اور نیند ابھی تک بہت دور ہے۔۔۔۔۔پروین شاکر نے کہا تھا کہ

وہ بچپنے کی نیند تو اب خواب ہو گئی
کیا عمر تھی کہ رات آئی اور سو گئے

قاسمی صاحب کو بھی کچھ ایسی جاگنے کی شکایت رہی ہو جو انہوں نے لکھا
دیدنی ہے شب فراق کا حسن
موت آئی تو ہم بھی سو لیں گے
یا فیض کی تنہائی کا وہ مصرعہ کہ اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
کہ اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
مجھے اس نیند نہ آنے کا گلہ کبھی نہیں رہا، نیند ایسی آتی ہے کہ بے اختیار خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنی نعمتوں میں ایک نعمت سے سرفراز کیا۔ لیکن جب کبھی طے کرلوں کہ اتنے بجے سووں گا اور اتنے بجے اٹھوں گا، تب میری بات نہیں مانتی۔۔۔بس اپنی مرضی سے آتی ہے۔۔۔۔کہنے والے کہتے ہیں کہ نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے۔۔۔اس بات سے بھی مجھے تو یہی لگتا ہے دل کرے تو سولی پر بھی آ جاتی ہے اور اس کا دل نہ ہو تو چراغ سحری بجھنے کے بعد بھی نہ آئے۔۔۔۔
بہت سال پہلے انور مسعود صاحب کی فیصل آباد آمد پر انجم سلیمی صاحب کا استقبالیہ کچھ ایسا تھا
انور مسعود صاحب فیصل آباد دو حصوں میں بٹا ہوا ہے
ایک حصے میں نیند نہیں ہے
ایک حصے میں خواب بہت ہیں۔

صد شکر کہ ہماری نیند ابھی خواب نہیں ہوئی۔۔۔کہیں آتی ہو گی۔۔
کنار شام سے بازوئے شب میں آتے ہوئے
یہ کس خیال سے چہرہ ہے لال سورج کا