قانون لاٹھی والا ۔۔۔۔۔

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون پر چلنے والے اس ملک میں کسی بسمہ کا سوگ منانا کیا معنی؟ کیا صرف حکمران اپنی حدود سے تجاوز کئے ہوئے ہیں یا ہر شخص اپنے اپنے دائرے میں ایک ننھا منا سا فرعون ہے؟اپنی دکان کے سامنے فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والے کا راستہ بند کرنے والا اسے اپنا حق سمجھتا ہے ، اس کا کہنا ہے کہ اس فٹ پاتھ پر چھابڑی رکھنے کا کرایہ وہ الگ سے کمیٹی کو دان کرتا ہے،
بڑی گاڑی والا چھوٹی گاڑی والے کو گالی دیتا ہے اور اس کو سڑک سے گاڑی اتار لینے پر مجبور کر دیتا ہے، چھوٹی گاڑی والے کو موٹر سائیکل والے کیڑے مکوڑے محسوس ہوتے ہیں اور موٹر سائیکل والے کو سائیکل سوار سڑک پر پسند ہی نہیں۔۔۔۔کس کا گلہ کس سے کیا جائے، جب یہ طے ہی نہیں کہ حق پر کون ہے، اور ہم جیسے معاشروں میں جیت صرف طاقتور کی ہوتی ہے، کمزور کے لئے ایک ہی قانون رائج ہے جو اقبال نے یوں بیان کیا تھا کہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
کراچی کا شاہزیب ہو یا لاہور کا زین ، طاقتور مجرموں کو مصلحتوں کی ڈھال پیچھے پناہ ملتی چلی آئی ہے۔ ہم بحثیت معاشرہ اس وقت تک ہلتے ہی نہیں جب تک دو چار لاشیں نہ گریں یا کچھ ایسی انہونی نہ ہو جائے کہ  مذمت کرنا معاشرتی مجبوری نہ ٹھہرے۔۔۔۔لاہور میں قتل ہو جانے والے نوجوان کی ماں کی صدا اس معاشرے کے منہ پر ایک تھپڑ سے بڑھ کر ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کے قاتلوں کو معاف نہیں کیا لیکن میں اس اس کا کیس لڑنے کے بھی قابل نہیں۔۔۔۔۔
یہ کروڑوں بھیڑ بکریاں، اور بھینیس جن کو اپنی لاٹھیوں سے پیار رہا ہے، ہاں کبھی کبھی اپنے کسی ہم نسل کے مرنے پر رنجیدہ ہو جاتیں ہیں، جب تیز چھری کی بجائے کسی کند کلہاڑے کے وار سے زبح کر دی جائیں، یا قتل کرنے کا طریقہ ذلت آمیز بھی ہو۔۔۔اور تھوڑی بہت علم کی روشنی جس نے ان جانوروں میں کچھ کچھ انسانی جذبات کی پیوند کاری کی بھی شروع کر رکھی ہو، حقوق نام کا عارضہ جو دنیا کے مہذب ممالک میں عام ہے، برابری اور مساوات نام کے قانون جو اسلام نامی مذہب سے بھی منسوب ہیں۔ ۔۔۔۔۔لاٹھیاں پریشان ہیں کہ اب باں باں کی آواز کچھ بڑھنے لگی ہے، پہلے تو ہمارے بڑے ان کو سڑک کنارے کچل دیا کرتے تھے تو آواز تک نہیں نکلتی ہے اور ہم نے ان کو سڑک کے کنارے کھڑے ہونے کی عزت کیا سونپی یہ تو خود کو سڑکوں کا مالک سمجھنے لگے ہیں،
پچھلے دودن کی خبروں کو اٹھا کر دیکھ لیں، شیخوپورہ میں دو سو روپیہ کرایہ کے تنازع پر ایک ٹیکسی ڈرائیور کو قتل کردیا گیا، پانچ بچوں کی چھت اور سہارا چھن گیا، لاہور میں ایک نوعمر لڑکی سے زیادتی ہوئی اور پولیس مجرموں کے گرو تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ ۔۔کیا یہ زیادتی اور قتل کا پہلا قصہ ہے جو چند دن اخبار کی سرخیوں یا بریکنگ نیوز پر لوگوں کا لہو گرماتا رہے گا؟ ہر موسم میں ایسے درجنوں واقعات لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی سعی کرتے ہیں مگر چائے کی پیالی کا یہ طوفان کسی بھی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہوتا۔
ان سب مسائل کا حل بس قانون کی حکمرانی ہے، قانون جو سب کے لئے برابر ہو، جس کے شکنجے سے کوئی بچنے نہ پائے، کیا غریب کی عزت و آبرو کا کوئی قانون یہاں نافذ بھی ہے۔ کیا قانون کی عملداری کے لئے کوئی حکومت کوشاں بھی ہے؟
ہاں تسلیم ہے کہ اس قانون میں امیر اور طاقتور کے لئے چور دروازے میسر ہیں اس لئے وہ کبھی اس کو تبدیل کرنے کے خواہاں ہی نہیں مگر سوال ان لوگوں سے ہے جو ایک عام طبقہ سے اٹھ کر قانون کے قلم دان کے مالک و مختار بنتے ہیں، کیا ہم یہ دروازہ بھی بند سمجھیں کیا واقعتا انصاف اس ملک سے رخصت ہو گیا؟
کیا ظالم کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں، کلمہ حق کہنے والوں کی زبانیں خاموش کیوں ہیں؟ یہ معاشرہ کب اپنی تعمیر کی طرف توجہ دے گا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ ہمیں زندہ رہنے کے لئے کچھ قوانین ترتیب دینے ہی ہوں گے۔ لاٹھی کا قانون بھی ایک ترتیب رکھتا ہے، ظالم ابن ظالم اور مظلوم ابن مظلوم نسلیں اسی سلسلہ کی پروردہ ہیں۔ لیکن ایسے گھٹن زدہ معاشرے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ 
کسی کی عزت سے کھیلنے والے، کسی اور کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں، کسی اور کو گالی دینے والے کسی اور سے گالی سنتے ہیں۔ جب ہم لوگوں کو عزت دیں گے یہی عزت کسی روز ہم تک پلٹ آئے گی۔ 
معاشرے کے فیصلہ سازوں سے درخواست گذار ہوں، خدا کے لئے ظلم کے ہاتھ پکڑ لیجئے، کتنے لوگوں کی لاشیں اور لہو یہ سمجھانے میں صرف ہوں گی کہ صرف اور صرف قانون کی بالادستی اس ملک کے مسائل کا حل ہے۔ 
ایسا قانون جو سب کے لئے برابر ہو، ایسا قانون جو کتابوں کے علاوہ میدان عمل میں بھی موجود ہو۔ 

نوٹ، یہ بلاگ نیو نیٹ ورک پر چھپ چکا ہے۔ http://urdu.neonetwork.pk/?p=20759