انٹرنیٹ سے ماخوذ؟؟؟؟

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انٹرنیٹ نے سینکڑوں لوگوں کو اظہار رائے کے لئے ایک پلیٹ فارم بھی مہیا کیا ہے، وہ درجنوں لوگ جن کے خطوط اخبارات کے ایڈیٹرز کی ردی کی ٹوکریاں بھرا کرتے تھے ، آج ان کے پڑھنے والے ہزاروں میں ہیں۔ اور بسا اوقات اخبارات کے ایڈیٹرز انٹرنیٹ پر لکھنے والوں کی معلومات سے اخبار سجاتے بھی نظر آئے ہیں۔ آپ انٹرنیٹ پر لکھنے والوں کی اہمیت کا اعتراف اخبارات کے بلاگز کے سیکشن سے بھی کر سکتے ہیں۔ اب ہمارے ملک کے اکثر اخبارات کالم کے ساتھ بلاگ کو بھی جگہ دے رہے ہیں۔ لکھنے والوں کی بہتات کے ساتھ ہی خیال چوروں کی بھی چاندی ہونے لگی۔۔۔۔چلیں خیال کی چوری کو سیف صاحب کے اس شعر کی آڑ حاصل ہے کہ
سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
مگر اس بات کا کیا کیا جائے کہ لوگ دھڑلے سے کسی کی تحریر اٹھاتے ہیں اور اپنے ایسے صفحہ پر پوسٹ کر دیتے ہیں کہ لوگوں کو گماں ہوتا ہے کہ یہ آپ کی ہی تحریر ہے۔ ہمارے بلاگرز کی تحریروں کا حال غریب کی بیٹی اور کمزور کی بیوی جیسا ہوتا ہے، کوئی منظم پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے لکھنے والوں کا احتجاج کہیں درج نہیں ہوتا۔ ابھی پچھلے دنوں ہمارے بلاگر دوست کی تحریر ملک کے مشہور اخبار کی ایڈیٹر صاحبہ نے اپنے نام سے چھاپ ڈالی۔۔۔اس سے پہلے بھی درجنوں اس نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں لوگ مصنف کا نام لکھنا پسند نہیں کرتے اور نیچے فقط اتنا لکھ دیتے ہیں۔
انٹرنیٹ سے ماخوذ
اب کوئی ان سے پوچھے کہ کیا آپ نے یہ تحریر کسی سے خیال لے کر اپنے الفاظ میں تحریر کی ہے جو آپ ماخوذ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں؟ اور اگر آپ نے اس تحریر کی کوئی زیر زبر بھی تبدیل نہیں کی اور مصنف کا نام ہٹا کر ماخوذ کے پردے پیچھے چلے گئے تو آپ کا فرض پورا ہوگیا؟
اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انٹرنیٹ پر لکھنے والے بھی اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لئے لکھتے ہیں، مگر ان کی قلم کی روشنائی  کسی سیٹھ کی طرف سے دی گئی تنخواہ سے نہیں خریدی گئی،ایسے لکھنے والوں کی محنت اس وقت ہی وصول ہوتی ہے جب پڑھنے والے ان کو پسندیدگی کی سند دیتے ہیں۔ مگر جب ایسا ہو کہ ان کا اعزاز بھی ان سے چھین لیا جائے، تحریر کی ملکیت ہی بدل دی جائے، جانتے بوجھتے مصنف کو بے نام کردیا جائے، اپنے صفحے کی ٹریفک تو خوب بڑھائی جائے مگر لکھنے والی کی محنت اسے وصول نہ ہونی دی جائے، اس سے بڑھ کر ڈاکہ زنی کی واردات کیا ہو گی۔
ہمارے دوست سلیم صاحب چائنا میں مقیم ہیں اور ایک عرصہ سے بلاگنگ سے منسلک ہیں۔ نہایت شگفتہ بیاں، مذہب اورزندگی کو ساتھ ساتھ لیکر چلنے والے اور محبتین بانٹنے والے شخص ہیں، لطیفہ لکھنے سے پہلے معذرت کے کلمات لکھتے ہیں، سرراہے ان کا لکھ ہوا ایک لطیفہ پیش خدمت ہے ۔

تفریح کیلئے لمبی ڈرائیو پر گئے میاں بیوی سنسان جگہ پر کار سے اتر ٹهنڈی ریت پر سکون کیلئے جا بیٹهے. کافی دیر کے بعد سرگوشی کے انداز میں خاوند کچھ کہنے کیلئے بیوی کے نزدیک ہوا تو بیوی نے شکر پڑها کہ آج لگتا ہے تو کچھ رومانوی سننے کیلئے ملے گا.خاوند نے آہستگی سے کہا: تجهے یہاں مار کر دباتا جاؤں تو کسی کو تیرا پتہ بهی نہیں چلے گا
http://www.hajisahb.com/blog/2014/10/15/jokes/


ان کا ایک مشہور لطیفہ جو آپ نے سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس پر گردش کرتا ہوا دیکھا ہو گا ۔

ایک کاشتکار (زمیندار) کو اللہ پاک نے توفیق دی اور بیوی کو ہنی مون کیلئے فرانس لے کر چلا گیا۔
شانزے لیزے روڈ پر پھرتے ہوئے بیوی نے گھر ٹیلی فوں کیا تو چہرہ اتر گیا۔ خاوند نے گھبراتے ہوئے پوچھا، سب خیریت تو ہے ناں؟
کہنے لگی، بس کیا بتاؤں اپنی بد نصیبی، آج سارے گھر والے ٹیوب ویل پر جمع ہیں اور خوب مزے کر رہے ہیں۔

اب سلیم بھائی کی ہی تحریر کا ایک اور نمونہ ملاحظہ ہو
یہ مضمون بھی درجنوں سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر دیکھا گیا ہے، اور لوگ جانتے بوجھتے ہی اس واقعہ کے روای یا لکھنے والے کا نام حذف کر دیتے ہیں اور پھر یہ بغیر نام کے ہی سوشل میڈیا پر گھومنے لگتا ہے۔
اس سے ملتی جلتی درجنوں واردتیں سوشل میڈیا پر عام ہیں، کچھ لوگ جان بوجھ کر اور کچھ ان جانے میں ایسی حرکتیں کر جاتے ہیں۔ میں دوستوں سے التماس کرتا ہوں کہ کسی کے سر سے پگڑی اتار کر اپنا شملہ اونچا کرنے کی کوشش نہ کریں، اگر آپ کو کسی کی تحریر پسند آئی ہے تو اس کو ضرور شئیر کریں لیکن اس کے لکھنے والے کو اس کا اعزاز اور عزت بھی دیں۔ کہ انٹرنیٹ پر لکھنے والوں کی واحد
بچت ان کا نام اور کنٹربیوشن ہے، ایسے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ ہماری سوسائٹی میں روشنی پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھیں۔
نوٹ، یہ بلاگ نیو نیٹ ورک پر چھپ چکا ہے۔ http://urdu.neonetwork.pk/?p=19144