ہماری ٹریفک کے برے حالات کی وجہ ان پڑھ ڈرائیور ہیں؟

ابھی ہمارے بلاگر دوست اسد اسلم صاحب کا مضمون بحوالہ ٹریفک چالان میں اضافہ پڑھا۔ اس مضمون میں بہت سے ممالک کی مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے ملک کے لئے بھی چالان بڑھا دینے کا نسخہ تیر بہدف ثابت ہو گا۔ بہت سے حوالوں سے اس تجویز کو موثر سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان کے زمینی حالات پر نظر رکھتے ہوئے میں تجویز کے عمل درآمد سے پہلے ہونے والی محنت پر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
آپ پاکستان کی سڑکوں پر گاڑی چلانے والے ڈرائیورز کا مشاہدہ کریں، آپ کو لگے کا کہ ننانوے فیصد لوگ گاڑی چلانے کے اصولوں سے ناآشنا ہیں، حتی کہ پولیس کی گاڑیاں چلانے والے باوردی سپاہی بھی آپ کو تکنیکی اعتبار سے غلط ڈرائیونگ کرتے دکھائی دیں گے۔ پاکستان ڈرائیونگ کی بڑی بڑی فاش اغلاط میری نظر میں کچھ یوں ہیں۔
ٹریفک سگنل کی پابندی نہ کرنا
ٹریفک کے سائن بورڈز اور اشاروں کو نہ سمجھنا
لائن اور ٹریک کی پابندی نہ کرنا
ان سب اغلاط کو ہم ٹریفک کے اصول وضوابط سے ناآشنائی کا شاخسانہ بھی قرار دے سکتے ہیں۔ لوگ صرف تیز لائن یا اوورٹیکنگ کے ٹریک میں ہی کیوں چلنا چاہتے ہین؟ ون وے کی خلاف ورزی کے خطرات کیا ہیں؟ بلاوجہ ہارن بجانے کے ہمارے ماحول پر کیا اثرات ہیں؟ کسی کے پیچھے گاڑی چلانے کا ہنر سیکھنا کتنا ضروری ہے؟ کیا پکی لائینوں یعنی سڑک کی حد کو ظاہر کرنے والی لائینوں کے باہر جا گاڑی چلائی جائی چاہیے؟ دائیں موڑ سے پہلے گاڑی کو کہاں روکا جانا چاہیے، گول چکر میں داخلے کے کون سے اصول ہیں؟ سامنے گلی میں کوئی رکاوٹ ہو تو آمنے سامنے سے آنے والی گاڑیوں میں سے راستہ کون دے گا؟ آپ اردگرد گاڑی چلانے والے دوستوں سے ان سوالوں کے جواب پوچھیں تو ہر ایک کی اپنی منطق اور جواب ہو گا جو اسے اس کے استاد نے گاڑی چلواتے وقت بتایا ہوگا، کیونکہ اب یہاں کوئی ایک استاد اور نصاب موجود نہیں اس لئے ہر ایک نے اپنے ماحول سے جو سیکھا وہ ایسا ہی ڈرائیور ہے۔ ۔۔۔
میرے خیال میں سزا بڑھانے کا تعین کرنے سے پہلے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ لوگوں تک گاڑی چلانے کی تعلیم پہنچ پارہی ہے کہ نہیں۔ اب اگر ڈرائیونگ کی تکنیک پر لوگوں کو پرکھا جائے تو جرمانے سے بچنے والوں کی تعداد بہت ہی کم ہو۔
 یورپ میں جرمانوں کی وجوہات کچھ اسطرح کی بھی ہو سکتی ہیں۔ جیسے دو ٹریک والی سڑک پر تیز ٹریک میں ہی چلتے جانا ،سڑک پر اسطرح گاڑی چلانا کہ دوسرے ڈرائیورز آپ کی وجہ سے آہستہ گاڑی چلانے پر مجبور ہوں، غلط سائیڈ سے اوورٹیک کرنا، سارے مسافروں کے لئے سیٹ بیلٹ نہ ہونا، ایک سے زیادہ ٹون والا ہارن استعمال کرنا، اپنی گاڑی کے ساخت سے بڑی گاڑی گاڑی کا ہارن استعمال کرنا، گاڑی کا دھواں چھوڑنا، ٹائروں کا مقررہ حد سے زیادہ گھسا ہونا، بچوں کو ان کی مخصوص نشست کے بغیر بٹھانا، بلاوجہ یا باربار ٹریک تبدیل کرنا، آپ کو جرمانہ دلا سکتے ہیں۔
لیکن ان جرمانوں کے نظام سے پہلے وہ ڈرائیورز کو اس حد تک تعلیم دے چکے ہوتے ہیں کہ ڈرائیورز اپنی گاڑی اور ڈرائیونگ کی قابلیت کے بارے بہتر اندازہ کر سکتے ہیں۔ مزید برآں سڑک پر چلنے کے آداب بچوں کو پری سکول سے ہی سکھانے شروع کر دئے جاتے ہیں۔ صبح صبح پری سکول کے بچے اپنے اساتذہ کی نگرانی میں چمکدار ویسٹیں پہنے شہر کی گلیوں ، سڑکوں، فٹ پاتھوں اور زیبرا کراسنگز پر چلنے کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ گو کہ سائیکل چلانے کا کوئی لائسنس نہیں مگر پھر بھی بچوں کو سکولوں میں سائیکل چلا کر اعزازی قسم کا سائیکل چلانے کا لائسنس دینے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ اوائل عمری سے سڑک پر چلنے اور سواری کرنے کی تربیت کی جا سکے۔
اب اگر بغیر تعلیم دئے لوگوں پر جرمانوں کا بوجھ لاد دیا جائے تو وہ ہمیشہ اس احساس میں رہیں گے کہ پولیس والا غلطی پر تھا، یا وہ رشوت لینا چاہتا تھا اور میں نے اس کی مٹھی گرم نہیں کی اس لئے اس کو جرمانہ کردیا گیا۔ اگر ہمیں ٹریفک قوانین کی بہتر آشنائی ہو تو ہماری سڑکوں پر بھی محفوظ ڈرائیونگ ممکن ہو سکتی ہے۔
میرے خیال میں آنے والے بیس سالوں میں بھی ڈرائیونگ کے اس نظام کو بہتر نہیں کیا جا سکتا ، جب تک سڑک پر ان پڑھ ڈرائیور موجود ہیں ٹریفک کی صورت حال بہتر نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنے آنے والی نسل کو محفوظ ڈرائیونگ کی تعلیم دینا ہو گی۔ ڈرائیونگ کی تعلیم کو سکول کے نصاب کا لازمی جزو بنانا ہو گا، کالجز میں محفوظ ڈرائیونگ کی آگاہی مہموں کا سلسلہ شروع کرنا ہو گا، اور سب سے بڑھ کر ڈرائیونگ لائسنس کو ایک مقدس ڈاکومنٹ کا درجہ دینا ہو گا کہ جس کا حصول تکنیکی اعتبار سے مشکل ہو، لوگوں کو ڈرائیونگ کے قوانین اور اخلاقیات کی موثر تعلیم اور پرکھ ہی آنے والے پاکستان کی سڑکوں کو لوگوں کے لئے محفوظ بنا سکتی ہے، وگرنہ جرمانہ سو سے دو سو کرنے کرپشن کرنے والوں کی قیمت بڑھنے کا اندیشہ اپنی جگہ موجود ہے، امیر آدمی کے لئے قوانین توڑنے کا دروزہ ہمیشہ نیچا ہی رہے گا۔ ہمیں اس عمارت کو اخلاقی اور علمی بنیادوں پر تعمیر کرنا ہو گا کہ لوگوں کو کم از کم یہ احساس تو ہو کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ غلط ہے۔
گاڑی چلانے کا مطلب اپنی منزل پر سب سے پہلے پہنچنا نہیں بلکہ سب کہ لئے ایسا ماحول بنانا ہے کہ سب بحفاظت اور با وقت اپنی اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔ اور پاکستان میں اس وقت کے آنے میں بہت وقت باقی ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اس آپشن کے سوا ہمارے پاس کوئی اور آپشن ہے ہی نہیں۔ کھلی سڑکوں کو جتنا بھی کھلا کر لیا جائے، جب تک اس ہجوم کو قطار میں لگنا نہیں آئے گا ہر چوراہا بوتل کی گردن بنا رہے گا۔

 نوٹ۔ یہ بلاگ ڈان بلاگ پر چھپ چکا ہے۔ اس کا لنک یہ رہاٹریفک مسائل کا حل صرف چالان میں اضافہ؟