آزادی بڑی نعمت ہے۔ بچوں کے لئے

صدر واجب الاحترام
رسیوں سے بندھا ہوا کوئی شیر دل اپنے جسم پر کیل ٹھونکوانے کے بعد آخری آواز میں با آواز بلند کہے آزادی، یا بخت نامہ آخری وار سہنے کے بعد بھی خون جگر سے آزادی نام کی عبارت بنائے، یا اپنے پاوں بیڑیوں سے باندھ کر میدان جنگ سے نہ بھاگنے کی قسم کھانے والے سپاہی سینے پر ہاتھ مار کر دشمن کو للکارے کہ آزادی۔

جباب والا
جب جذبوں کا کلاشنکوفوں کا ڈر نہ رہے، جب کسی مقصد کے لئے اپنی جان بے معنی دکھائی دے، جب مائیں راج دلاروں کی موت پر فخر کریں۔ جب سہاگنیں سیندور کی جگہ لہو کی لالی سجائیں، جب سر پر سرخ پٹیاں بندھیں، جب ٹکرا کر بکھرنے کا خوف نہ رہے، تب سمجھ آتی ہے کہ آزادی بڑی نعمت ہے۔
جب یہ سمجھ آ جائے کہ آزادی بڑی نعمت ہے تو دانش غیر سے آنکھیں خیرہ نہیں ہوتیں، اور محلوں کے قمقوں کی روشنی کے سامنے دیے اور چراغ بھی بڑھیا لگتے ہیں۔ پھر کبھی اغیار کے لہجوں کی طاقت سے مرعوبیت کا سحر طاری نہیں ہوتا، پھر اس سوچ کا ظہور ہوتا ہے۔
اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے
پھر وہ ذوق یقین پیدا ہوتا ہے کہ
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

پھر مرنے کے بعد جینے کی سمجھ آتی ہے
کہ
فنا فی اللہ کی راہ میں بقا کا راز مضمر ہے
جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا
جی ہاں جناب صدر آزادی بڑی نعمت ہے۔