جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا حساب ہو گا

جن کے ہاتھ لہو میں رنگے ہوئے ہیں، جن کی قول میں نعرے اور ہیں اور جن کے فعل میں افعال اور، جن کی سوچ علاقائیت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، جن کی زبانوں سے حرف غلط کے سوا کچھ نہیں نکلتا، جو جنگ کا اعلان کر کے بھی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے قتل کرتے جاتے ہیں، جن کے دلوں کو بچوں کی بے کنار ہنسی بھی پگھلا نہیں پاتی، وہ درندے جو سکولوں میں گھس کر بے گناہ بچوں کو بے رحمی سے مار دیتے ہوں، اور جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا حساب ہو گا۔

عالی جاہ، بستی بسنا کھیل نہیں، بستے بستے بستی ہے، سماجی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ معاشرہ ایسی اکائی ہے جہاں تمام مکاتب فکر کے لوگ بستے ہوں، اور یہ کہ سماج کے بغیر دو ہی لوگ زندہ رہ سکتے ہیں، دیوتا یا درندہ، اور انسانوں کو زندہ رہنے کے لئے دوسرے انسانوں کے انس کی ضرورت ہوتی ہے، اور دوسروں کے ساتھ رہنے کے لئے ہمیں کچھ مشترکہ عادات اپنانا ہوتیں ہیں، کسی قانوں پر عمل پیرا ہونا پڑتا ہے، اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے والے کبھی بھی محلول کا حصہ نہیں بنتے بلکہ کسی نہ کسی مسئلہ کو جنم دیتے ہیں۔ ایسے لوگ جن کی سوچ اجتماعی سوچ سے ٹکرانے لگے، وہ جتھا یا گروہ جو خود کو دوسروں سے برتر تصور کرنے لگیں کسی بھی معاشرے میں عدم توازن پیدا کر دیتے ہیں، اور پھر دلائل کی اس دھند میں
توکون اور میں کون کی صدائیں ابھرتی ہیں۔ پھر انسان کے سامنے انسان نہیں نفرت کے سامنے مخالف کی سوچ ہوا کرتی ہے، پھر اجتماعیت تقسیم ہو کر فرقوں میں بٹنے لگتی ہے، انسانوں تقسیم ہو کر آدمی بن جانتے ہیں، پھر معصوم بچے دشمن کی گود میں پلتے ہوئے سپولئے ٹھہرتے ہیں۔