تنہائی سے مکالمہ۔۔۔۔۔۔

کبھی کبھی دل ڈوبنے لگتا ہے، زندگی کسی بند گلی کے آخری کونے میں داخل ہوئی محسوس ہوتی ہے، دوست اور بہی خواہ بہت دور لگنے لگتے ہیں، اپنوں کو پکارنا بھی مشکل ہو جاتا ہے، تنہائی ایسے سبھی احساسات کو دو آتشہ کر دیتی ہے، اور خصوصا جب آپ نے بڑے بڑے خواب دیکھ رکھے ہوں تو حقیقت کی دنیا کے سفر میں راستے کے کانٹے بار بار پیروں کو چھلنی کرتے ہیں۔

ایسا نہیں کہ میں کسی اور کی زندگی سے کہانی کشید کر کے آپ کے گوش گذار کر رہا ہوں، میں نے خود ایسی اداس راتوں کو اپنے آنگن میں سرگوشیاں کرتے ہوئے سنا ہے، جب دل چاہتا ہے کہ جس بستر پر لیٹے ہیں اسی سے مرے ہوئے اٹھیں، یا یوں اٹھیں کہ سب مسائل حل ہو چکے ہوں، خود کو تعمیر کے کے کام پر لے جانا، اجنبی لوگوں سے ہنس کر بات کرنا اور اپنوں سے کچھ بات بھی نہ کرنا، بس نہ پوری ہونے والی خواہشوں کے غم میں گھلتے جانا،
بارہا ہے ایسا ہوتا ہے کہ پردیس کی اس تنہائی میں کچھ کھانے پینے کو بھی دل نہیں چاہتا، دنیا کی حسین نعمتیں ، پھل میوے سب کچھ خوان پر موجود ہوتا ہے لیکن کیوں کھایا جایا اس کی وجہ ڈھونڈنی پڑتی ہے، اور جب کچھ بارہ چودہ گھنٹے بھوک میں گذر جاتے ہیں تو خواہش سستی  پر حاوی ہو ہی جاتی ہے، جو کچھ پہلی نظر میں ملا اٹھا کر منہ میں ٹھونس لیا، کہ بس وہ جو بھوک کا احساس تھا اس کا منہ بند کیا جا سکے۔ اور پھر وہی تنہائی، بستر اور اداسی۔۔۔۔۔
ہاں کچھ لوگوں کی تنہائیوں کا دامن مذہب نے تھام رکھا ہے، وہ خدا کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں، نمازوں کی ٹھنڈک آنکھ سے دل میں اتارتے ہیں، اور وہ لوگ جن کے پاس دلیل کی نیا ہے وہ اپنی کشتیوں کو بے رحم لہروں پر ہچکولے کھانے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔
میں نے شدت سے اس تنہائی کو محسوس کیا ہے جو انسانوں کو خود کشی کے راستے پر لے جاتی ہے، میں نے اس تنہائی کو قریب سے دیکھا ہے جو آدمی کو نفسانی بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔ لیکن میرے اندر جینے کی خواہش مرنے سے ہمیشہ زیادہ رہی ہے۔ یا یہ کہ شکست آلود موت گوارہ کرلینا مجھے گوارہ نہیں۔۔۔میں میدان میں لڑتے ہوئے مر جانے کا قائل ہوں، ہرکولیس نامی فلم کے ایک کردار کی طرح جسے لگتا ہے کہ وہ اب کی بار تیروں کی بوچھاڑ میں مارا جائے گا اور پھر وہ تلوار تک نہیں اٹھاتا اور موت کے کئے اپنے بازو کھول دیتا ہے۔
میری زندگی میں جو بے قراری ہے اس کو سراغ نہ ممکن ہے، فراز کہ اس شعر کی طرح
آج تک اپنی بے کلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
لیکن ڈھلتی عمر کے ساتھ شائستگی کا دامن چھوٹتے جانا کہاں کا انصاف ہوا، لوگوں کے رویے اب دل پر وار کرتے ہیں، وہ باتیں جو ہم ہوا میں اڑا دیا کرتے تھے، اب کلیجہ چھلنی کرنے لگی ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے ہماری مروت کو ہماری کمزوری جانا، ان کے وار کچھ ایسا نشان چھوڑے جاتے ہیں کہ ہر نئی محبت سے پیشتر پرانے ذخم یاد آنے لگتے ہیں۔ ایک غلیظ گالی سے منہ بھر آتا ہے مگر پھر وہ جو زندگی کے تین عشروں میں تربیت نے ترتیب دیا ہے وہ آڑے آ جاتا ہے، بس ایک خاموشی ہے اور مسلسل خاموشی ہے جو دل کی زبان پر طاری ہے۔ روز خود کو دلائل کی جنگ کے دھوئیں سے دور لیکر جاتا ہوں۔
گھٹیا لوگوں کی سیاسیت اور ان کے گھٹیا طرف دار ایک طوفان بدتمیزی برپا کئے ہوئے ہیں۔ ان کے دلائل کی آواز اتنی بلند ہے کہ ہماری گفتگو نقار خانے میں طوطی۔
وہ لوگ جنہیں مرہم غم جانتے ہیں، وہ لوگ کہیں دکھائی نہیں دیتے، لوگوں کے زخم سینے والے، ہم ایسوں کے غصہ کو برداشت کرنے والے، اور سب سے بڑھ کر تنہائی کو محفل کرنے والے۔ وہ لوگ اب کہیں دکھائی نہیں دیتے۔