پانامہ ، بول ٹی وی وغیرہ

تو ثابت ہو چکا (بغیر ثابت کئے)کہ پاکستان کے کاروباری افراد کی ایک لمبی فہرست پانامہ  کے ساحلوں پر اپنے خزانے دفناتی آئی ہے، وزیراعظم کے بچے ، عمران خان کے قریبی، جنگ کے کرتا دھرتا، اور بے شمار ، حتی کہ اب اتنی تعداد میں لوگوں کے نام نکل آئے ہیں کہ لگتا ہے یہ بھی کوئی ہم جنس پرستی قسم کی فیشن ایبل بیماری ہو گی ، جس میں اردوگرد درجنوں لوگ اچانک دریافت ہوئے ہیں، اور پھر انہوں نے اخلاقی ، سماجی، اور جسمانی  تفاوت میں اپنی اور اپنے جیسے دوسروں کی دل جوئی کے سامان ڈھونڈھ لئے ہیں۔ ایک خاموشی طاری ہو تی چلی جا رہی ہے۔ ملک کے ممتاز ترین تجزیہ کار اس بات پر مصر ہیں کہ ابھی تو الزام لگا ہے، الزام ثابت کرنا پڑے گا۔
دانشوران قوم نے دلائل کے دھندلکوں میں لوگوں کو یہ تک بھلا دیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے بول ٹی وی اور اس کے مالک کے ساتھ کیا ہوا تھا؟
آپ تھوڑی دیر کے لئے آجکل کے ٹاک شوز میں دئیے جانے والے دلائل کو شعیب صدیقی، اور بول کے کیس کے تناظر میں سوچ کر دیکھیں، آپ کو دوہرے معیار کو پہچاننے کے لئے کسی پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اور اگر بول کا افتتاح ہو چکا ہوتا تو شعیب شیخ آج جیل میں نہ ہوتا کیوں کہ ہمارے ملک کو جو مافیا چلا رہا ہے، اس میں کاروباری، بزنس مین، اور ملک کے طاقتور لوگ برابر کے شریک ہیں۔ استحصال اگر کسی کا ہو رہا ہے تو عام آدمی کا،
جس کی پگ زردار کے پاوں تلے آتی ہے، جو پولیس کی لاٹھیاں بھی کھاتا ہے اور گالیاں بھی سنتا ہے۔
اور طاقتور لوگ ہر قانون سے بالاتر ہیں، وہ سر عام عوام کو گاڑیوں تلے کچل دیں، کسی کے منہ پر تمانچہ دے ماریں، کسی کے ہاتھ کاٹ ڈالیں، ان کو کوئی پوچھ نہیں سکتا ۔۔۔۔
جو علی الاعلان کہتے ہیں کہ تم جانتے نہیں۔۔۔۔دیکھ لوں گا ۔۔۔۔۔اور پھر طاقتور تو کیا ان کے معمولی مہروں پر بھی ہمارا قانون کا شکنجہ بے بس نظر آتا ہے۔
اس ملک کی بہتری کی جتنی امیدیں ہیں وہ مڈل کلاس سے ہیں، لیکن ابھی تو نوکری چاکری کے چکر میں وہ بھی طاقتوروں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ بہتری کی کوئی امید دور تک نہیں ہے۔ اللہ تعالی ہمارے ملک پر رحم فرمائے۔