میں اور میری ماں جی ۔۔۔۔

میں اس عظیم عورت کے پہلو میں بیٹھا ہوں جس نے مجھے جنم دیا ہے، مجھے سمجھاتے سمجھاتے وہ کافی دیر پہلے سو گئی تھی، ابھی تھوڑی دیر میں پھر اٹھے گی اور کہے گی، سوتا کیوں نہیں، اس کمپیوٹر میں تیرا کیا دھرا ہے، میں اندر ہی اندر اس کے بارے بڑا پریشان ہوں، ماں اب پگھلی ہوئی موم بتی کی طرح اپنی خوبصورتی کھونے لگی ہے، وہ عورت جو پانچ بچوں کی ناز برداریوں میں لمحہ بھر نہ تھکتی تھی اب دس منٹ ایک جگہ بیٹھنے سے تھکنے لگی ہے۔ وہ کیا آرام ہو سکتا ہے جو میری ذات سے اسے ملے گا، میں جو پچھلے چھ سات سالوں سے پردیس میں بھٹکتا پھرتا ہوں، میں تو کسی روز بھی اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک نہ ہوا، وہ مجھے بارہا کہتی ہے پترا کھانی تے روٹی ای آ، تونے کس لئے پردیس کو اپنا مقدر بنا لیا۔


سچ پوچھیئے مجھے خود بھی اس بات کی سمجھ نہیں، ایسا نہیں کہ میں پردیس میں روپے پیسے میں کھیلتا ہوں، بس اتنا ہے کہ میری ذاتی زندگی آسانی میں ہے ، اپنی زندگی کے آرام کا نام ہی خود غرضی ہے۔ اس خود غرضی کی زندگی میں محبت کے وہ لمحے کم ہی آتے ہیں جب میں اپنی ماں کا چھوٹا سا بیٹا بن کر سوچوں۔ وہ پگھلتی ہوئی موم بتی ہماری زندگیوں میں روشنیاں بھر کر کمزور اور کمزور ہوئی جاتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اب مجھ سے تو نظر بھر کر دیکھی بھی نہیں جاتی، میں اس کے پچکے گالوں پر ایک بوسہ ثبت کروں تو کتنے آنسووں میری آنکھیں بھگونے آ جاتے ہیں۔
میں کچھ اور سوچنے لگتا ہوں، شوگر میں گھری ہوئی ماں کو سب میٹھے پسند ہیں، وہ انسولین اور گولیاں ملا کر لیتی ہے مگر پھر بھی اس کی شوگر قابو سے باہر ہے۔ پہلے پہل میں نے اسے میٹھی چائے پینے سے روکا تو اسے اچھا نہیں لگا، پھر میں بھی نظریں چرانے لگا۔ شاید وہ ایسے ہی خوش ہے۔ لیکن اندر ہی اندر مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ اس کو سمجھاوں۔
لیکن وہ اب میری کوئی بات نہیں سمجھتی، اس کا خیال ہے کہ میں اب وہابی ہو گیا ہوں، جو اب پیروں فقیروں کو برا کہتا ہے، جسے اپنی دو جماعتوں کا زعم ہے، وہ مجھے کسی اللہ والے کا مرید کر دینا چاہتی ہے اور میں ہوں کہ کسی سرکش جانور کی طرح کسی کھونٹے سے بندھنے کو تیار نہیں۔ ہم ہر ملاقات پر ایک دو لمبی بحثیں کرتے ہیں وہ مجھے پیار سے ، غصے سے اور ناراضگی سے ہر طرح سمجھاتی ہے کہ میں اس کی بات مان جاوں، کسی اللہ والے سے لو لگاوں، لیکن مجھے کوئی اللہ والا ملتا ہی نہیں۔ میں لوگوں کو دنیا کی میلی آنکھ سے دیکھتا ہوں، مجھے ہر طرف طمع زدہ، بھوکی نظروں کی سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا اور میر ی سادہ لوح ماں کو ہر بھکاری میں کسی قلندر کا پرتو نظر آتا ہے۔
ماں جس بات پر اکثر ناراض ہوتی ہے وہ یہ کہ میں اسے فون نہیں کرتا، اور میں جب بھی فون کرتا ہوں تو اکثر وہ فون نہیں اٹھاتی، اپنے فون کو کہیں نہ کہیں رکھ کے بھول جاتی ہے، پھر جب کبھی اسے مل جاتا ہے اور بات ہو جاتی ہے تو یہی بات دہراتی ہے کہ تم فون نہیں کرتے، ہاں شاید مجھ سے باتیں سننا چاہتی ہے، جو میں کرتا ہی نہیں، میرے بڑے بھائی ان سے خوب باتیں کرتے ہیں، مجھے سمجھ نہیں کہ اس سے کیا پوچھوں، ایک فون پر دو چار دفعہ مختلف انداز میں اس کی خیریت دریافت کر کے الوداع کہہ دیتا ہوں، کبھی کبھی تو میری اوٹ پٹانگ باتوں سے بور ہو کہ کہتی ہے، چنگا فیر میں نماز پڑھ لواں۔۔۔