ڈاکٹر سٹرینج فلم اور ہمارا تبصرہ

انوکھا ڈاکٹر نامی اس فلم کا ذایقہ ابھی تک آنکھیں محسوس کر سکتی ہیں، وہ لمحے جب کمال فن کی معراج پر پہنچا ہوا سرجن تقریبا مرے ہوئے شخص کے سر سے گولی کھینچ لاتا ہے، وہ لمحہ جب وہ اپنی دراز سے درجن بھر گھڑیوں میں سے انتخاب کرتا ہے کہ آج کونسی گھڑی پہنے گا، اور وہ لمحہ جب حادثے کا شکار ہو کر اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے ہاتھوںکے پٹھے اب کام نہیں کرتے ، وہ لمحہ جب کھٹمنڈو کے ایک بوسیدہ گھر میں اس پر حیرتوں کے نئے جہان کھلتے ہیں، وہ لمحہ جب اسے اپنے عمل پر یقین رکھتے ہوئے ماونٹ ایورسٹ سے گھر تک پہنچنا تھا،

وہ لمحہ جب جب نئے سیکھے
ہوئے عمل سے ڈاکٹر سٹرینج لائیبریری سے کتابیں چراتا ہے، اور وہ منظر جس میں گمشدہ اوراق کو واپس لانے کا عمل دہراتا ہے۔۔۔فلم بے شمار خوبصورت لمحوں سے بھری ہوئی ہے، اس کو فلمانے کا انداز، پیشکش بے حد دلدریب ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں کچھ کمال آئی میکس سینما اور تھری ڈی کا بھی ہو ، کیونکہ آئی میکس سینما اب تک بہترین سینما گردانا جاتا ہے، اور ان کا یہ دعوی کہ فلم مت دیکھئے بلکہ فلم کا حصہ بن جائیے بالکل حقیقت کی قریب ہے۔ آپ خود  کو بھی ان غلام گردشوں کے پیچھے کھڑا محسوس کرتے ہیں جہاں سے آفاقی علم کے سر چشمے پھوٹتے ہیں۔

فلم کا پلاٹ۔
ڈاکٹر سٹیفن سٹرینج امریکہ کا مشہور نیورو سرجن ہے، جو مشکل کیسیز کا با آسانی حل کر سکتا ہے۔ ایک حادثے کا شکار ہو کر اپنے ہاتھوں کے  پٹھوں کو ہلانے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک ماہر سرجن ہے اس لئے اس کی سب سے قیمتی دولت بھی اس کے ہاتھ ہیں وہ کسی بھی قیمت پر ان کو واپس لانا چاہتا ہے۔ کئی ایک آپریشنز کے بعد ڈاکٹر مایوسی کا شکار ہے ، اس کا فزیو تھراپسٹ اس کو تسلی دیتا ہے اور ایک شخص کا تذکرہ کرتا ہے جو اس سے ملتے جلتے کسی معاملے میں بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر سٹرینج اس کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ وہ اس وقت باسکٹ بال کھیل رہا ہوتا ہے حالانکہ یہ وہی شخص تھا جو بقول ڈاکٹر سٹرینج کبھی ٹھیک نہ ہو پائے گا۔ وہ شخص ڈاکٹر کو نیپال میں موجود جگہ کمار تاج نامی معبد گاہ کا پتہ بتاتا ہے۔ ڈاکٹر نیپال کا سفر کرتا ہے ہے تو اس پر ایک نئی دنیا کے دروازے کھلتے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جس میں نیکی اور بدی کی طاقیتں آپس میں سینگ پھنسائے ہوئے ہیں۔ کمار تاج کے کچھ راز چرائے جا چکے ہیں، اور نیکی کا طاقتیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
ڈاکٹر اس نئی دنیا کے علوم سیکھنے کا آغاز کرتا ہے اور بالاخر ان علوم پر  عبور حاصل کر لیتا ہے۔ بدی کی طاقتیں بہت طاقتور ہیں لیکن ڈاکٹر سٹرینج ان کو اپنے علم اور حکمت عملی سے سمجھوتے پر مجبور کر دیتا ہے۔

فلم کی کاسٹ پروڈکش وغیرہ
فلم کا مرکزی کردار بینی ڈکٹ نے ادا کیا ہے، باقی  معلومات اس صفحہ پر دستیاب ہیں۔

ہمارا تبصرہ

فلم کو جانچنے کا ہمارا ایک ہی معیار ہے کہ فلم آپ کو کچھ وقت کے لئے روزمرہ سے باہر لے جائے، ہمارے اس معیار پر فلم پوری اترتی ہے۔ فلم کی کہانی اور طرز پیشکش میں وہ دلفریبی ہے کہ ناظر کو ہلنے کا موقع نہیں دیتی، اگر اس فلم کو تھری ڈی اور آئی میکس کا تڑکا لگ جائے تو کیا کہنے۔ وقت ملے تو دیکھئے گا ۔