قائل نہیں کر سکتے تو کنفیوز کردو ۔۔۔۔۔۔

ایک گرد ہے دلائل کی جس میں جسدِ دلیل کی شبیہہ تو موجود ہے جسم موجود نہیں۔۔۔۔ایسے الفاظ کا انتخاب جن سے گفتگو کا وزن تو بڑھایا جا سکتا لیکن کوئی بھی نتیجہ حاصل کر لینا ایک سعی لاحاصل ہی ہو گا۔۔۔وہ جو کسی نے کہا تھا کہ اگر قائل نہیں کر سکتے تو کنفیوز کر دو۔۔۔تو اس وقت چاروں طرف کنفیوزن کے بم گرائے جا رہے ہیں۔۔۔۔ہمارے بھولے بھالے ساتھی قافلے سے بچھڑی کونجیں بن کر رہ گئے ہیں۔۔۔۔اور ایسے ماحول میں ہارون رشید ، حسن نثار، منیر بلوچ کے کالم کمزور دل والوں کا جگر تک کاٹ گئے ہوں گے۔۔۔حفیظ اللہ نیازی کی محبتوں میں سرزنش کا گلابی پن۔۔۔۔وہ جو کہتے ہیں کہ
ذکر اس پری وش کا اور بیاں اپنا
بن گیا رقیب جو تھا رازداں اپنا
تحریک کے امیدواران کے انتخاب پر بہت لوگ خوش نہیں ہیں۔۔۔۔اور میرے ماتم کی چادر پر آ بیٹھے ۔۔۔۔میرے گھر کو آگ لگانے والے بھی۔۔۔آج کچھ دوستوں کی دیواروں پر خوشی کے رنگ  ہیں کہ تحریک کی کمزوری کا کوئی رنگ تو نظر آیا ۔۔۔۔وہ آنکھیں جو بہت عرصے سے صرف بد صورتی کی متلاشی تھیں ان کو بھی کچھ سیرابی تو ملی۔۔۔کئی لوگوں نے داد طلب نظروں سے ادھر ادھر دیکھا کہ ہم نہ کہتے تھے دو دن نہ چل پائے گی یہ تحریک ۔۔۔۔اور آج خود کشی کے دھانے پر کھڑی ہے۔۔۔۔
وہ ایک بندہ جس کے خلاف پانچ ایف آئی آر ہیں وہ دو سو لوگوں کی سچائی پر حاوی ہو گیا۔۔۔اور وہ ایک نادان جس کو عمران خان میں ولی اللہ نظر آنے لگا  اس کی سوچ کو کروڑوں کی سوچ کا پیرہن بتانے کی کوشش کی گئی ، ۔۔۔وہ ایک گلوگار جس کا اسلام سے تعلق مشکوک بتا کر خان کے اسلام کو شک بھری نظروں سے دیکھا گیا، وہ جن کا اپنا چہرہ کوئی نہیں، اخلاق کے ایسے درس لئے پھرتے ہیں کہ جیسے پاکستان کے مذہب کی فکر صرف ان کو ہے، وہ جو ابھی تک پہلی بیوی اور پچھلی بیوی کی سحر انگیز کہانیوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔۔۔۔اور  یہ کہ تحریک آگئی تو زرداری پھر آ جائے گا۔۔۔۔دیکھو زرداری نہ آنے پائے، دیکھو یہودی آ رہے ہیں۔۔۔اے امت مسلمہ اپنے دین کی فکر کرو یہ تمہاری
بستیوں کو ویران کر دیں گے۔۔۔۔۔
ہاں یہ بات تو طے ہے اب قائل نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔اب کنفیوز کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ہم نے ایک بات تو طے کر لی ہے کہ اب عمران خان کی باری ہے۔۔۔یہ ووٹ کسی اندھے کونیٗں میں ہی کیوں نہ پھنکنا پڑے ۔۔۔یہ ووٹ اب تمہارے کاسے میں نہیں گرے گا۔۔