بچوں کو زہر بانٹنے والے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

 گذشتہ صبح خبر کی دنیا سے پتا چلا ہے قادر آباد نامی جگہ پر دو بچے زہریلہ دودھ پینے سے ہلاک ہو گئے اور ایک دو کی حالت خطرے میں ہے۔۔۔قادر آباد نامی ایک قصبہ ساہیوال اور اوکاڑہ کے راستے میں بھی آتا ہے۔۔۔بھلے وقتوں میں جب ہم ائیر بسوں میں سفر کیا کرتے تھے تو یہاں کی کھوئے والی قلفیاں اور ان کے لکھنوی سٹائل کے بیچنے والے  بہت مشہور ہوا کرتے تھے۔۔۔جن کے عوامی اشعار کی گونج آج بھی کانوں میں سنائی دیتی ہے۔۔۔۔
پاکستان زراعت کے نام سے جانا جانے والا ملک ، دودھ کی پیداوار میں پہلے دس نمبروں میں آنے والا ملک۔۔۔۔اور دودھ کا
معیار سستی شراب کے برابر۔۔۔۔

وہ جو اس کام کو عبادت سمجھتے تھے۔۔۔وہ جو کہتے تھے یہ خدا کا نور کا ہے۔۔۔۔وہ آجکل بس مینڈک چھانتے ہیں اور اس کو گاڑھا کرنے کے لئے نہروں کا پانی ڈالتے ہیں۔۔۔وہ کس جہان کو کمانے جا رہے ہیں۔۔۔۔
اور وہ جنہوں نے زیادہ دودھ کے لالچ میں ہارمون کے انجکشن کو دودھ دینے والے جانوروں کا نشہ بنا دئے اور گوشت کے حصول کے لئے ان کی خوراک کا جزو لازم  بنایا وہ آخر کب سوچیں گے ان کے مضر اثرات ایک روز ان کے اپنے گھروں میں آ پہینچیں گے۔۔۔۔ہارمون کی کمی یا زیادتی سے پیدا ہونے والے اکثر بیماریوں کے تانے کہیں نہ کہیں ان مصنوعات سے ملتے ہیں جن کو پیدا کرنے میں ہارمون کا عمل دخل ہوتا ہے۔
سنا ہے اس دودھ میں سٹارچ، ڈٹرجنٹ، یوریا، فارملین، بالصفا پاووڈر، وغیرہ بھی شامل کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کمیکلز سے اصل دودھ جیسی شکل و صورت کا دودھ جیسا ایک مائع تیار کیا جاتا ہے۔۔۔۔جو نجانے کس کے بچے کو بیماری بانٹتا ہے۔۔۔۔اور بیماری کا یہ سلسلہ ایک دن اس گھر بھی آ پہنچتا ہے جہاں سے آغاز ہوا تھا۔۔۔۔۔لوگوں کے بچوں کو زہر بانٹنے والوں کے بچے بھی زہریلا آٹا۔۔۔۔کیمکل زدہ مرچوں، زہر میں ڈوبی سبزیات کی زد میں آتے ہیں۔۔۔۔۔نجانے کب ہمارا نام نہاد معاشرہ تجارت میں سچ کو پہچانے کا ۔۔۔۔ابھی تو بس ایک دوڑ لگی ہے پیسہ کمانے کی۔۔۔۔جس کی جتنی ہمت ہے۔۔۔۔جس کا داو جہاں چلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔