بے چین روحوں کے نام

زندگی کے گذرتے ماہ و سال میں کچھ کھونے اور حاصل کر دینے کی دوڑ میں، میں خود کو بہت پیچھے پاتا ہوں، اس کی بڑی وجہ خواہشات کی حدود کا تعین نہ کرنا ہے۔ آگے سے آگے بڑھنے کی جستجو میں ہر چھوٹی موٹی منزل نشان منزل بنتی چلی جاتی ہے، اور میں ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو محسوس کئے بغیر اور آگے بڑھنے کا سوچتا رہتا ہوں، ایسی دوڑ کا عمومی نتیجہ اداسی اور اضطراب کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ سو ایک اداسی اور اضطراب طاری ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ جو زندگی گذار رہا ہوں کہ یہی زندگی ہے یا ابھی کچھ اور طرح کے دن آئیں گے ، لیکن اب جیسے کچھ کچھ یقین ہونے لگا کہ اس زندگی میں بہت کچھ بدلنے والا نہیں ہے، مجھے اپنی سوچ تبدیل کرنا ہے، دن تو ایسے ہی آتے رہیں گے ۔۔وقت آگے کی طرف بہتا ہی رہے گا۔ ایسی دوڑ میں شریک بے شمار دوست جو میری ہی عمر کے لوگ ہیں، جو میرے ہم مکتب بھی ہیں، ان سے پوچھتا ہوں تو سب کو مضطرب اور اداس پاتا ہوں، وہ جو ہمارا ساینسدان دوست جس نے عالمی معیار کے کئی مکالے لکھے۔۔امریکہ والوں کی فرمائش پر ان کے دیس بیٹھا ہے۔۔۔کہتا ہے بس یار تھک گیا ہوں، ریسرچ کرنے کو دل نہیں چاہتا۔۔۔وہ جو اپنے بنک کی نوکری چھوڑ کر پی ایچ ڈی بھی کما بیٹھے اور کینڈا جا بسے وہ وہاں بھی بے چین رہتے ہیں، کہتے ہیں یار پی ایچ ڈی کا کوئی فائدہ نہیں کوئی بزنس کرو۔۔۔۔۔اور کئی دوست جن کو اپنے بزنس کا جنون تھا اب نوکریوں پر اتر آئے ، کہتے ہیں کہ ہر وقت کی مصیبت اب ہم سے اٹھائی نہیں جاتی۔۔۔اور جنہوں نے نوکری غلامی کی طرح قبول کر لی تھی وہ اب بپھرے بپھرے پھرتے ہیں کہ اپنا کاروبار کریں گے چاہے بوٹ پالش کی دکان ہی کیوں نہ بنائیں۔
اطمینان نہیں ہے۔۔۔
بس اطمینان نہیں ہے۔۔

مجھ سمیت وہ سارے دوست بھول گئے ہیں کہ انھوں نے زندگی کا آغاز کہاں سے کیا تھا۔ گرمیوں کی دوپہروں میں اپنے امتحانوں کی دنوں میں بھی دودو ٹیوشنیں پڑھانے والے اگر پچاس لاکھ جیب میں ڈالے پھرتے ہیں تو کیا کم ہیں؟ لوگوں سے ایڈوانس کے نام پر دس دس ہزار اکھٹے کرنے والے اگر چھوٹی ہی سہی اپنی کمپنی کے مالک ہو گئے ہیں تو کیا کم ہے؟ اور جن کی آنکھوں میں خوابوں کے سوا کچھ تھا ہی نہیں اور آج کسی علاقے کے اعلی ترین سرکاری افسر ہیں تو کیا کم ہے؟
بس ہوا یوں ہے کہ اب اردگرد کے ماحول نے ہمیں ایسا احساس غربت دیا ہے جو دل سے جاتا ہی نہیں ہے۔ زندگی تو بہت بہتر ہو چکی ہے۔ خدایا تیرا شکر ہے۔
بس ہم نے اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو منانا نہیں سیکھا۔ اس آغاز کی طرف تو ہم کم ہی دیکھتے ہیں، جہاں سے ہم چلے تھے۔۔۔